بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 38 از 194
حدیث نمبر: 7859 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ، فِي جَسَدِهِ، وَفِي مَالِهِ، وَفِي وَلَدِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان مرد و عورت پر جسمانی یا مالی یا اولاد کی طرف سے مستقل پریشانیاں آتی رہتیں ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملتا ہے تو اس کا ایک گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7859]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7860 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: " قُومُوا، فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ کیونکہ موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7860]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7861 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مرے وہ اس کے اہل خانہ کی ملیکت ہے اور جو شخص یتیم بچے چھوڑ جائے ان کی ضرویات میرے ذمے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7861]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619.
حدیث نمبر: 7862 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ لَضِجْعَةٌ مَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7862]
حکم دارالسلام
حديث قوي، وهذا الإسناد أخطأ فيه محمد بن عمرو، والصواب، عن أبي سلمة عن يعيش عن أبيه.
الحكم: حديث قوي، وهذا الإسناد أخطأ فيه محمد بن عمرو، والصواب، عن أبي سلمة عن يعيش عن أبيه.
حدیث نمبر: 7863 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ، وَأَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ"، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ"، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" حَجٌّ مَبْرُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا جہادفی سبیل اللہ عمل کا کوہان ہے سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ فرمایا حج مبرور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7863]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 26، م: 83.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 26، م: 83.
حدیث نمبر: 7864 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ، فقَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7865 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا وَشَهِيدًا، أَوْ شَهِيدًا وَشَفِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7865]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1378، وهذا إسناد منقطع، أبو صالح لم يسمع من أبي هريرة.
الحكم: حديث صحيح، م: 1378، وهذا إسناد منقطع، أبو صالح لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7866 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامٌ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، شَكَّ فِيهِ:" شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7867 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7867]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، خ: 1427.
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، خ: 1427.
حدیث نمبر: 7868 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبَا مَرْيَمَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَرْيَمَ ، يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ، ثُمَّ يُتَوَضَّأَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کہ پھر اس سے وضو کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 239، م: 282.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282.
حدیث نمبر: 7869 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ الْقُرَشِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَهُ، فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: أَعْطِنِي يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ". فَجَذَبَهُ بحُجْزَتِه، فَخَدَشَهُ، قَالَ: فَهَمُّوا بِهِ، قَالَ:" دَعُوهُ". قَالَ: ثُمَّ أَعْطَاهُ، قَالَ: وَكَانَتْ يَمِينُهُ أَنْ يَقُولَ:" لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کچھ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " نہیں استغفر اللہ " یہ سن کر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک جسم پر خراشیں ڈال دیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ کر سزا دینا چاہی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کچھ دے دیا دراصل یہ الفاظ " نہیں استغفر اللہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم کے الفاظ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7869]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، هلال والد محمد، لا يعرف.
الحكم: إسناده ضعيف، هلال والد محمد، لا يعرف.
حدیث نمبر: 7870 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7870]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1377، م: 588.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1377، م: 588.
حدیث نمبر: 7871 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ مجھے میرے محبوب ابوالقاسم جو کہ صادق ومصدوق تھے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حدیث سنائی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7871]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3605، وهذا إسناد ضعيف، مالك مجهول، لكنه متابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3605، وهذا إسناد ضعيف، مالك مجهول، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7872 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: مَا أَدْرِي كَمْ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَائِمًا فِي السُّوقِ يَقُولُ: " يُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: بِيَدِهِ هَكَذَا، وَحَرَّفَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنی مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بازار میں کھڑے ہو کر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا (قتل قتل) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7873 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7874 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6155، م: 2257.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6155، م: 2257.
حدیث نمبر: 7875 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، سُفْيَانُ ، صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7875]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563.
حدیث نمبر: 7876 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الْجَحَّافِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي" يَعْنِي حَسَنًا، وَحُسَيْنًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7876]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7877 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7877]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7878 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ"، قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ:" شَرُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واللہ وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7878]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.