بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 189 از 194
حدیث نمبر: 10880 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيُّ ، رَجُلٌ ، أَبَاهُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , أَخْبَرَنَا بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيُّ , حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُتْبَعُ الْجِنَازَةُ بِصَوْتٍ، وَلَا نَارٍ , وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنازے کے ساتھ آگ اور آوازیں (باجے) نہ لے کر جایا جائے اور نہ ہی اس کے آگے چلا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10880]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل المدني وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل المدني وأبيه
حدیث نمبر: 10881 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الضَّحَّاكِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ الضَّحَّاكِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَاعِدًا , وَلَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ , وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے راوی نے بےوضو ہونے کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10881]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ:445،م:649
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ:445،م:649
حدیث نمبر: 10882 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الضَّحَّاكُ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ، إِنْسَانًا قَدْ سَمَّاهُ" , قَالَ الضَّحَّاكُ: فَحَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلِ , فَرَأَيْتُهُ يُطَوِّلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ , وَيُخِفُّ الْأُخْرَيَيْنِ , وَيُخَِفُّ الْعَصْرَ , وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ , وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَمَا يَشْبَهُهَا , ثُمَّ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِالطُّوَلِ مِنَ الْمُفَصَّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتا لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرأت کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10882]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 10883 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک صبح یا شام اللہ کی راہ میں جہاد کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10883]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2793، م: 1882
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2793، م: 1882
حدیث نمبر: 10884 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ , أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10885 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ بِمَكَّةَ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سلام کو مختصر کرنا سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10885]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قرة
حدیث نمبر: 10886 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْمَعْ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَلَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10887 مسند احمد
حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ خَالِدٍ ، مَالِكٌ ، دَاوُدَ يَعْنِي بْنَ الْحُصَيْنِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي بْنَ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام کے بعد کئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 10888 مسند احمد
حَمَّادٌ ، مَالِكٍ ، وَبْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مَالِكٍ , وَبْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 10889 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي مَوْدُودٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَزَقَ فِي الْمَسْجِدِ , فَلْيَحْفِرْ فَلْيُبْعِدْ , وَإِلَّا بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد میں تھوکے تو اسے چاہئے کہ وہ دور چلا جائے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10889]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده حسن، خ: 416، م: 550
الحكم: صحيح، وإسناده حسن، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 10890 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ ، أَبِي بِشْرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ , قََالَ: سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , فَقََالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ , فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامٍ , إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر اشعری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جمعہ کا دن عید کا دن ہوتا ہے اس لئے عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ بھی رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10890]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1985، م: 1144
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1985، م: 1144
حدیث نمبر: 10891 مسند احمد
حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعٍ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي , فَطَافَ فِيهَا , ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ , وَقَالَ:" أَيْنَ لَكَاعِ؟ ادْعُوا لِي لَكَاعًا" , فَجَاءَ الْحَسَنُ، فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ , فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ" , ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي , أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي , أَوْ بَكَيتُ شَكَّ الْخَيَّاطُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنوقینقاع کے بازار میں میرے ہاتھ سے سہارا لگائے ہوئے نکلے وہاں کا چکر لگا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں پہنچ کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو آوازیں دینے لگے او بچے او بچے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ آگئے وہ آتے ہی دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جب بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
الحكم: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 10892 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ، ثُمَّ يُتَوَضَّأُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
الحكم: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 10893 مسند احمد
حَمَّادٌ ، أَبُو النَّضْرِ ، بْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، بْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، وَبْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قََالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , عَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَبْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا وَلَا تُسْرِعُوا , وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا , وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" , وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ:" فَأْتُوا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10893]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10894 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ , فَذَاكَ لَهُ إِذْنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ قاصد کے ساتھ ہی آجائے تو یہ اس کے لئے اجازت ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10894]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، أما قوله: اللهم إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه صحيح، خ: 2122، م: 2421
الحكم: إسناده حسن، أما قوله: اللهم إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه صحيح، خ: 2122، م: 2421
حدیث نمبر: 10895 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَهْدِيٍّ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قََالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ , وَمَا يَرَى أَنَّهَا تَبْلُغُ حَيْثُ بَلَغَتْ , يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10895]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6478، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 6478، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10896 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قََالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٍ , عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ , فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ , فَغَفَرَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اللہ نے اس کی قدردانی کی اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 10897 مسند احمد
وَقََالَ: " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ , وَالْمَبْطُونُ , وَالْغَرِقُ , وَصَاحِبُ الْهَدْمِ , وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا شہداء کی پانچ قسمیں ہیں طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور عمارت کے نیچے دب کر مرنا بھی شہادت ہے، جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
الحكم: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
حدیث نمبر: 10898 مسند احمد
وَقََالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا لَهُمْ فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوْلِ , ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ , لَاسْتَهَمُوا , وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ , لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ , وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ , لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرورت شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 615، م:437
الحكم: إسناده صحيح، خ: 615، م:437
حدیث نمبر: 10899 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
قََالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ , وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391