حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ ، أَبِي بِشْرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ , قََالَ: سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , فَقََالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ , فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامٍ , إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر اشعری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جمعہ کا دن عید کا دن ہوتا ہے اس لئے عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ بھی رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10890]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1985، م: 1144
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1985، م: 1144