بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 154 از 194
حدیث نمبر: 10180 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب قبر سے عذاب جہنم سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10181 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10182 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَم، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6637
حدیث نمبر: 10183 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، أَبِي مُدِلَّةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، عَنِ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کی دعاء رد نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10183]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا الإسناد ضعيف لجهالة أبي مدلة
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا الإسناد ضعيف لجهالة أبي مدلة
حدیث نمبر: 10184 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10185 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10185]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبي ليلى
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبي ليلى
حدیث نمبر: 10186 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، مَكْحُولٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا خَادِمِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10186]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1464، م: 982 ، وهذا إسناد فيه انقطاع، أن مكحولا لم يسمع من عراك هذا الحديث بعينه
الحكم: حديث صحيح، خ: 1464، م: 982 ، وهذا إسناد فيه انقطاع، أن مكحولا لم يسمع من عراك هذا الحديث بعينه
حدیث نمبر: 10187 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَار ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَشُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَار ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 10188 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، وَأَبِي رَزِين ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , وَأَبِي رَزِين ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ , قََالَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک پاؤں میں جوتی اور دوسرا خالی لے کر نہ چلے یا تو دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2098
الحكم: إسناده صحيح، م: 2098
حدیث نمبر: 10189 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى، لِيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیز یہ بھی فرمایا کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 10190 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 584، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 584، م: 1511
حدیث نمبر: 10191 مسند احمد
وَكِيعٌ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 10192 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً , فَقَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا" ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ رَاكِبَهَا وَفِي عُنُقِهَا نَعْلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جارہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا جبکہ اونٹ کے گلے میں جوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1706، م: 1322
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1706، م: 1322
حدیث نمبر: 10193 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْكَ إِلَّا كَلْبٌ كَانَ فِي الْبَيْتِ، وَتِمْثَالُ صُورَةٍ فِي سِتْرٍ كَانَ عَلَى الْبَابِ، قَالَ: فَنَظَرُوا، فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِالْكَلْبِ فَأُخْرِجَ، وَأَنْ يُقْطَعَ رَأْسُ الصُّورَةِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الشَّجَرَةِ، وَيُجْعَلَ السِّتْرُ مُنْتَبَذَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی تلاش کرنے پر پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور تصویر کا سر کاٹ دیا گیا تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کے تکیے بنالیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10193]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10194 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيث" ، يَعْنِي السُّمَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام ادویات یعنی زہر کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10194]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10195 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص زہر پی کر خودکشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانگتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے جو شخص اپنے آپ کو کسی تیزدھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیزدھا رآلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1365، م: 109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1365، م: 109
حدیث نمبر: 10196 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعاء۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10196]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبي جعفر
الحكم: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبي جعفر
حدیث نمبر: 10197 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6155، م: 2257
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6155، م: 2257
حدیث نمبر: 10198 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 395
الحكم: إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 10199 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى الضُّحَى إِلَّا مَرَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوائے ایک مرتبہ کے کبھی چاشت کی نماز پڑھنے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10199]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي