بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 37 از 194
حدیث نمبر: 7839 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنْ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ . وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، مَا أَنَا قُلْتُ: " مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلْيُفْطِرْ"، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ، أَخْبَرَهُ، عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم! یہ بات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7839]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، قد وهم محمد بن بكر في تسمية الراوي عن أبي هريرة، والصواب كما رواه عبدالرزاق.
الحكم: حديث صحيح، قد وهم محمد بن بكر في تسمية الراوي عن أبي هريرة، والصواب كما رواه عبدالرزاق.
حدیث نمبر: 7840 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151.
حدیث نمبر: 7841 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سُهَيْلٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَجُلًا رَفَعَ غُصْنَ شَوْكٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ، فَغُفِرَ لَهُ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَهَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعٌ، وَلَكِنْ سُفْيَانُ قَصَّرَ فِي رَفْعِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914.
حدیث نمبر: 7842 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : رَجُلٌ خَطَبَ امْرَأَةً، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7842]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1424.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1424.
حدیث نمبر: 7843 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے (جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے) منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1416.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1416.
حدیث نمبر: 7844 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ". ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ، فَقَالَ:" يَا بَنِي حَارِثَةَ، مَا أُرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ"، ثُمَّ نَظَرَ، فَقَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ، بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری زبانی مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کا درمیانی علاقہ حرم قرار دیا گیا ہے تھوڑی دیر بعد بنوحارثہ کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنوحارثہ میرا خیال ہے کہ تم لوگوں کی رہائش حرم سے باہر نکل رہی ہے پھر تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد فرمایا نہیں تم حرم کے اندر ہی ہو تم حرم کے اندر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1869، م: 1372.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1869، م: 1372.
حدیث نمبر: 7845 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا: يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ، قَالَ: وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" هَذَا غُلَامُكَ"، قُلْتُ: هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ، فَأَعْتَقْتُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں یہ شعر پڑھتا جاتا تھا اگرچہ یہ رات کٹھن اور لمبی ہے لیکن ہے پیاری۔ کیونکہ اسی نے مجھے دارالکفر سے نجات دلائی ہے۔ میرا ایک غلام راستے میں میرے پاس سے بھاگ گیا تھا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کرلی ابھی میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ میرا غلام آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوہریرہ! یہ تمہارا غلام ہے میں نے عرض کیا کہ یہ اللہ کے راستہ میں آزاد ہے چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2530.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2530.
حدیث نمبر: 7846 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1876، م: 147.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1876، م: 147.
حدیث نمبر: 7847 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ، أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ، لَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا، وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ، وَغُفِرَ لِرَجُلٍ نَحَّى غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا نہ خودا سے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243،1914.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243،1914.
حدیث نمبر: 7848 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7848]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7849 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَلَمَّا جَاءَ فِي الرَّابِعَةِ، أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابومالک اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ واپس بھیجا تھا پھر جب وہ چوتھی مرتبہ آئے تو انہیں رجم کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7849]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6815، م: 1691، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك لا يعرف.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6815، م: 1691، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك لا يعرف.
حدیث نمبر: 7850 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7850]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ماقبله.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7851 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2283.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2283.
حدیث نمبر: 7852 مسند احمد
قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَقْعُدَ، فَلْيُسَلِّمْ إِذَا قَامَ، فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَوْجَبَ مِنَ الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہئے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہئے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7852]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7853 مسند احمد
عَبْدَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7853]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7854 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وقَالَ، يَعْنِي عَبْدَةَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7855 مسند احمد
أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْيَمَامِيُّ ، طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ، الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ، وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7855]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: «وراكب الفلاة وحده» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طيب.
الحكم: حديث صحيح دون قوله: «وراكب الفلاة وحده» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طيب.
حدیث نمبر: 7856 مسند احمد
أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَاجَّ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ الَّذِي أَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ وَأَشْقَيْتَهُمْ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ، فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَتَبَهُ اللَّهُ أَوْ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي؟!"، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ نے اپنی معمولی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنی پیغمبری اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے بھی پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4838، م: 2652.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4838، م: 2652.
حدیث نمبر: 7857 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، يَعْقُوبَ، أَوْ ابْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ، أَوْ ابْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى عَضَلَةِ سَاقَيْهِ، ثُمَّ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ، ثُمَّ إِلَى كَعْبَيْهِ، فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنون تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7857]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5787، وقد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5787، وقد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
حدیث نمبر: 7858 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، لَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے آپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563.