بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 172 از 194
حدیث نمبر: 10540 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ. يَتْرُكُ الطَّعَامَ لِشَهْوَتِهِ مِنْ أَجْلِي، وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ لِشَهْوَتِهِ مِنْ أَجْلِي، هُوَ لٍي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانے کو ترک کرتا ہے روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10540]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10541 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10541]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5788، م: 2087
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 10542 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ، وَلَوْ مِنْ تَوْرِ أَقِطٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو اگرچہ وہ پنیر کے ٹکڑے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10542]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:352
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:352
حدیث نمبر: 10543 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، وَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، خَطَرَ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى يُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ، فَلَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10543]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:608،م:389
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:608،م:389
حدیث نمبر: 10544 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِنِصْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ , فَيَقُولُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، أَوْ يَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ یا یہ کہ قاری نماز فجر سے واپس ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10544]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «أو ينصرف القارئ . . . . » ،خ:1145، م:758، وإسناد الحدیث حسن، فیہ محمد بن عمرو، صدوق لہ أوھام۔
الحكم: صحيح دون قوله: «أو ينصرف القارئ . . . . » ،خ:1145، م:758، وإسناد الحدیث حسن، فیہ محمد بن عمرو، صدوق لہ أوھام۔
حدیث نمبر: 10545 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ يُقَلِّلُهَا , يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی، اسی دن وہ جنت میں داخل اور اتارے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ اور اس دن ایک گھڑی (بہت مختصر) ایسی بھی آتی ہے جو اگر کسی نماز پڑھتے ہوئے بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں اللہ سے کچھ مانگ لے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10545]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6400، م: 852، 854
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6400، م: 852، 854
حدیث نمبر: 10546 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ , أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر یا اس کی شکل گدھے جیسی بنادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 10547 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ , ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ , ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو سہ بارہ پئیے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پئیے تو اس کی گردن اڑادو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10547]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي
الحكم: صحيح، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 10548 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ ، زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ , ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں تو ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں جائیں گے جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10548]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد
الحكم: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد
حدیث نمبر: 10549 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً , عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَلَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يُسْتَمَعَ حَدِيثُهُمْ , أُذِيبَ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ , وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا , دُفِعَ إِلَيْهِ شَعِيرَةٌ وَعُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا , وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تصویر بناتا ہے اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا (اور اس سے کہا جائے گا کہ) اس میں روح پھونکے لیکن وہ اس میں روح پھونک نہ سکے گا جو شخص لوگوں کی بات چوری چھپے سنے اور انہیں اس کا سننا اچھا نہ لگتا ہو تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے اس طرح عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ اسے جو کا دانہ جائے گا اور اس میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ اس میں گرہ لگا نہیں سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7558، م: 2111
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7558، م: 2111
حدیث نمبر: 10550 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں سام کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! سام سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10550]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10551 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
حدیث نمبر: 10552 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ , وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ , أَوْ قَاتَلَهُ , فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م:1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م:1151
حدیث نمبر: 10553 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبِي يحدث , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10553]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
الحكم: حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
حدیث نمبر: 10554 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ , عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " لِكُلِّ عَمَلٍ كَفَّارَةٌ، وَالصَّوْمُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ . " وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ کے علاوہ ہر عمل کا کفارہ ہے روزہ خاص میرے لئے ہیں اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10555 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ , قََالَ أَبِي وَهُوَ أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قََالَ: أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ فَأَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، إِلَى مَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ، فَمَا كَانَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنوں تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10555]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5787
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5787
حدیث نمبر: 10556 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، الْحَسَنَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , قََالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ , وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ هُدًى فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا , كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کے لئے گمراہی کا طریقہ رائج کرے گا لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی اور جو شخص لوگوں کے لئے ہدایت کا طریقہ رائج کرے لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10556]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2674، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: حديث صحيح، م: 2674، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10557 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَلَا بَأْسَ بِهِ , وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ , قَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ , فَهُوَ قِمَارٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ریس میں ایسا گھوڑا شامل کردے جس کے بارے میں یہ یقین نہ ہو کہ وہ آگے بڑھ جائے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو شخص ایسا گھوڑا شامل کردے جس کے آگے بڑھ جانے (اور جیت جانے) کا یقین ہو تو یہ جوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10557]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
الحكم: إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 10558 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ , وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف " خواہ وہ حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو " کسی تیز دھار چیز سے اشارہ کرے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7072، م:2616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7072، م:2616
حدیث نمبر: 10559 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِثَلَاثٍ وَلَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ: أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتیں ترک نہ کرنے کی کیونکہ یہ رجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10559]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
الحكم: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول