بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 83 از 194
حدیث نمبر: 8760 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْحَكَيمِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكَيمِ قَائِدُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً، قَالَ: " انْبَسِطُوا بِهَا، وَلَا تَدِبُّوا دَبِيبَ الْيَهُودِ بِجَنَائِزِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی جنازے میں شرکت کرتے تو فرماتے کشادگی کے ساتھ چلو اس طرح مت چلو جیسے یہودی اپنے جنازوں کے ساتھ چلتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8760]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، عبدالحكيم متروك
الحكم: إسناده ضعيف جداً، عبدالحكيم متروك
حدیث نمبر: 8761 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبُو مَرْيَمَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالسُّرْعَةُ فِي الْيَمَن" وَقَالَ زَيْدٌ مَرَّةً يَحْفَظُهُ:" وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حکومت کی صلاحیت قریش میں ہے عہدہ قضا کی صلاحیت انصار میں ہے اذان کی صلاحیت حبشہ میں ہے اور تیز رفتاری اہل یمن میں ہے (راوی حدیث زید نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ امانت اہل ازد میں ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8761]
حکم دارالسلام
رجاله رجال الصحيح، واختلف فى وقفه ورفعه والموقوف أصح
الحكم: رجاله رجال الصحيح، واختلف فى وقفه ورفعه والموقوف أصح
حدیث نمبر: 8762 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8762]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8763 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ، فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " يَطْرُقُ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَيَتَهَوَّلُ لَهُ، ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے دیکھا کہ کسی نے میرے سر پر ضرب لگائی اور میں نے اسے لڑھکتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے پھر فرمایا کہ تم میں سے کسی کے سامنے رات کے وقت شیطان آتا ہے اور اسے ڈراتا ہے پھر وہ آدمی صبح کو لوگوں کے سامنے یہ خبر بیان کرتا پھرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8764 مسند احمد
شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ بِاللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ صُرَاخَ الدِّيَكَةِ بِاللَّيْلِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کے وقت گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو اور جب تم رات کے وقت مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت سے اللہ کے فضل کا سوال کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8764]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
حدیث نمبر: 8765 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا وَقُلْنَا: مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ! فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8765]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، مؤمل سيئ الحفظ، وأبو المهزم متروك الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً، مؤمل سيئ الحفظ، وأبو المهزم متروك الحديث
حدیث نمبر: 8766 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ، حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاح، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولناچھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8766]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، منصور مجهول، ومكحول لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، منصور مجهول، ومكحول لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8767 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: " فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہو کر کہنے لگیں یا رسول اللہ! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور اس میں مجھ پر ناپاکی کے ایام بھی آتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم پاک ہوجایا کرو تو جہاں خون لگا ہو، وہ دھو کر اس میں ہی نماز پڑھ لیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! اگر خون کے دھبے کا نشان ختم نہ ہو؟ فرمایا پانی کافی ہے، اس کا نشان ختم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8767]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وقد روي عن ابن لهيعة هذا الحديث عبدالله بن وهب وغيره وخالفوا فيه موسى، وهو المحفوظ
الحكم: حديث حسن، وقد روي عن ابن لهيعة هذا الحديث عبدالله بن وهب وغيره وخالفوا فيه موسى، وهو المحفوظ
حدیث نمبر: 8768 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيُّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيُّ وَذَلِكَ قَبْلَ الْمِحْنَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَلَمْ يُحَدِّثْ أَبِي عَنْهُ بَعْدَ الْمِحْنَةِ بِشَيْءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8768]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قد اختلف فيه على الحسن، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قد اختلف فيه على الحسن، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8769 مسند احمد
الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، قَال: فَلَا يَزَالُ يُقَالُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُون: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، قَالَ: فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٍ، فَلَا يَزَالُ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ: مِثْلُ مَا قِيلَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ، فَيُقَالُ لَهُ: مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر وہ نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ! جو پاکیزہ جسم میں رہا یہاں سے نکل قابل تعریف ہو کر نکل اور روح و ریحان کی خوشبخری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں اس کے سامنے یہ جملے بار بار دہراتے جاتے ہیں حتی کہ اس کی روح نکل جاتی ہے اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے آواز آتی ہے کون؟ جواب دیا جاتا ہے فلاں آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا خوش آمدید، قابل تعریف ہو کر داخل ہو جاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاقات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگار عالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہ گار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح! جو خبیث جسم میں رہی نکل قابل مذمت ہو کر نکل، کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر اس کے سامنے یہ جملے بار بار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں پوچھا جاتا ہے کون؟ بتایا جاتا ہے کہ فلاں، وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی کوئی خوش آمدید نہیں اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے چنانچہ وہ آسمان سے واپس آکر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلی مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہ گار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8770 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٌ ، لَيْثٍ ، كَعْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا دَرَجَةٌ فِي أَعَلَى الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم مجھ پر درود بھیجا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے باعث تزکیہ ہے اور اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگا کرو یہ جنت کے سب سے اعلیٰ ترین درجے کا نام ہے جو صرف ایک آدمی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بھی میں ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8770]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وليث ضعيف، وكعب مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وليث ضعيف، وكعب مجهول
حدیث نمبر: 8771 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا؟ مَا يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ خُشُوعِكُمْ وَرُكُوعِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو؟ واللہ مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 418، م: 423
الحكم: إسناده صحيح، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8772 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي الْأَوْبَرِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا وَعَلَيْهِمْ نِعَالُهُمْ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ، وَانْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ" . وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالاوبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ وہ اس کے معمولات میں شامل ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8772]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الأوبر
الحكم: صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الأوبر
حدیث نمبر: 8773 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعْنَى ، زَائِدَةُ ، لَيْثٍ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعْنَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ، لَمْ يُقْبَلْ لَهَا صَلَاةٌ حَتَّى تَغْسِلَهُ عَنْهَا اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8773]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وإسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة عبدالكريم
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وإسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة عبدالكريم
حدیث نمبر: 8774 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " كَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کی سخاوت اس کا دین اس کی مروت اس کی عقل اور اس کا حسب اخلاق ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8774]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مسلم سيئ الحفظ وكثير الأوهام
الحكم: إسناده ضعيف، مسلم سيئ الحفظ وكثير الأوهام
حدیث نمبر: 8775 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، قَبِيصَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، أنهَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ، لَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8775]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، رشدين ضعيف، منكر الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، رشدين ضعيف، منكر الحديث
حدیث نمبر: 8776 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَمْرِو بْنِ أَبِي نَعِيمَةَ ، أَبِي عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نَعِيمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ جَلِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا بِغَيْرِ عِلْمٍ، كَانَ إِثْمُ ذَلِكَ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَنْ اسْتَشَارَ أَخَاهُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَمْرٍ وَهُوَ يَرَى الرُّشْدَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَقَدْ خَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے اور جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8776]
حکم دارالسلام
إسناده ضعف لضعف رشدين وجهالة عمرو، وأما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر ، خ: 110، م: 3
الحكم: إسناده ضعف لضعف رشدين وجهالة عمرو، وأما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر ، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 8777 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ أَبُو سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، الْخُزَاعِيَّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْأَعْرَجِ ، وَالْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ" ، حَدَّثَنَاه بَعْدَ ذَلِكَ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، وَالْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو لوگوں کے درمیان جج بنادیا جائے گویا اسے بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8777]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8778 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، الْعَلَاء ِبن عبد الرحمن ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاء ِبن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَاعْفُوا اللِّحَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5893، م: 260
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5893، م: 260
حدیث نمبر: 8779 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعِيدٍ ، أَخِيهِ عَبَّادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ: وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8779]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى الثقات
الحكم: حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى الثقات