مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: " فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہو کر کہنے لگیں یا رسول اللہ! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور اس میں مجھ پر ناپاکی کے ایام بھی آتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم پاک ہوجایا کرو تو جہاں خون لگا ہو، وہ دھو کر اس میں ہی نماز پڑھ لیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! اگر خون کے دھبے کا نشان ختم نہ ہو؟ فرمایا پانی کافی ہے، اس کا نشان ختم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8767]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وقد روي عن ابن لهيعة هذا الحديث عبدالله بن وهب وغيره وخالفوا فيه موسى، وهو المحفوظ
الحكم: حديث حسن، وقد روي عن ابن لهيعة هذا الحديث عبدالله بن وهب وغيره وخالفوا فيه موسى، وهو المحفوظ