يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَمْرِو بْنِ أَبِي نَعِيمَةَ ، أَبِي عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نَعِيمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ جَلِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا بِغَيْرِ عِلْمٍ، كَانَ إِثْمُ ذَلِكَ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَنْ اسْتَشَارَ أَخَاهُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَمْرٍ وَهُوَ يَرَى الرُّشْدَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَقَدْ خَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے اور جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8776]
حکم دارالسلام
إسناده ضعف لضعف رشدين وجهالة عمرو، وأما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر ، خ: 110، م: 3
الحكم: إسناده ضعف لضعف رشدين وجهالة عمرو، وأما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر ، خ: 110، م: 3