بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 112 از 194
حدیث نمبر: 9340 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَنْذِرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی چیز وقت سے پہلے نہیں مل سکتی، البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9340]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6694 ، م : 1640
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6694 ، م : 1640
حدیث نمبر: 9341 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ"، قَالُوا: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ" إِذَا لَقِيتَهُ سَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاصْحَبْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں، صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کیا؟ فرمایا جب وہ تم سے ملے تو سلام کرو، جب دعوت دے تو قبول کرو، جب نصیحت کی درخواست کرے تو نصیحت (خیرخواہی) کرو جب چھینک کر الحمدللہ کہے تو (یرحمک اللہ کہہ کر) اسے جواب دو بیمار ہو تو عیادت کرو اور مرجائے توجنازے کے ساتھ جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9341]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1240 ، م : 2162
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1240 ، م : 2162
حدیث نمبر: 9342 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فِي النَّارِ أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9342]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1891
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1891
حدیث نمبر: 9343 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ فَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں میں ان سے درگذر کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر واقعۃ حقیقت اسی طرح ہے جیسے تم نے بیان کی تو گویا تم انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اپنی روش پر قائم رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9343]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2558
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2558
حدیث نمبر: 9344 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ، وَالصِّيَامَ، وَالْجِهَادَ، وَالصَّدَقَةَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟، بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ"، فَلَمَّا أَقَرَّ بِهَا الْقَوْمُ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِثْرِهَا: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَفَّانُ: قَرَأَهَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ: يُفَرِّقُ، فَأَنزلَ الله عزَّ وَجلَّ: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 ، فَصَارَ لَهُ مَا كَسَبَتْ مِنْ خَيْرٍ، وَعَلَيْهِ مَا اكْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ، فَسَّرَ الْعَلَاءُ هَذَا: رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورت بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی " کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے، وہ سب اللہ کی ملکیت میں ہے، تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب خود ہی لے لے گا پھر جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے " تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر یہ بات بڑی گراں گذری چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اب تک جتنے اعمال نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ کا مکلف بنایا گیا ہے، ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، ہم میں اس کی طاقت نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہوں جو تم سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہی تھی کہ ہم نے سن لیا لیکن مانیں گے نہیں تمہیں یوں کہنا چاہئے کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے بھی، پروردگار! ہم آپ سے آپ کی مغفرت کے طلب گار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے یہی کہنا شروع کردیا کہ ہم نے سن لیا اور مانگیں گے بھی، پروردگار! ہم آپ سے مغفرت کے طلب گار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جب انہوں نے اس کا اقرار کرلیا اور ان کی زبانوں نے اپنی عاجزی ظاہر کردی تو اس کے بعد ہی اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی " آمن الرسول بما انزل الیہ " الی آخرہ کہ پیغمبر اور مومنین اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والی وحی پر ایمان لے آئے ان میں سے ہر ایک اللہ پر اس کے فرشتوں کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لے آیا اور یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں روا رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے بھی، پروردگار! ہمیں معاف فرما تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے جب انہوں نے یہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمادی کہ " اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتے، اس کے لئے وہی ہے جو اس نے کمایا اور اسی کا وبال ہے جو اس نے کیا " علماء اس کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ انسان خیر کا جو کام کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور برائی کا جو کام کرتا ہے، اسی کا نقصان بھی اسی کو ہوگا، پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہم سے مؤاخذہ نہ فرما " اللہ نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے " پروردگار ہم پر پہلے لوگوں حیسا بوجھ نہ ڈال " اللہ نے جواب دیا ٹھیک ہے " پروردگار! ہم پر ایسی چیزوں کا بار نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے " اللہ نے جواب دیا ٹھیک ہے " ہم سے درگذر فرما، ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا آقا ہے، لہٰذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9344]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 125
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 125
حدیث نمبر: 9345 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ:" يَا أُبَيُّ". فَالْتَفَتَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ صَلَّى أُبَيٌّ فَخَفَّفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" وَعَلَيْكَ"، قَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَيْ أُبَيُّ إِذْ دَعَوْتُكَ أَنْ تُجِيبَنِي؟". قَالَ:" أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ:" أَفَلَسْتَ تَجِدُ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24". قَالَ: قَالَ: بَلَى، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَعُودُ. قَالَ:" أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ، وَلَا فِي الزَّبُورِ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ، مِثْلُهَا؟". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ هَذَا الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا". قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، يُحَدِّثُنِي، وَأَنَا أَتَبَطَّأُ مَخَافَةَ أَنْ يَبْلُغَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْحَدِيثَ، فَلَمَّا أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْبَابِ، قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي؟. قَالَ:" فَكَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟". قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ أُمَّ الْقُرْآنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ، وَلَا فِي الزَّبُورِ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ، مِثْلَهَا وَإِنَّهَا لَلسَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف تشریف لے گئے وہ نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا وہ ایک لمحے کو متوجہ ہوئے لیکن جواب نہیں دیا اور نماز ہلکی کر کے فارغ ہوتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا السلام علیک ای رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جواب دے کر فرمایا ابی جب میں تمہیں آواز دی تھی تو تمہیں اس کا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ " اللہ اور رسول جب تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہے تو ان کی پکار پر لبیک کہا کرو؟ " انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیوں نہیں، میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں کوئی ایسی سورت سکھا دوں جس کی مثال تورات، زبور، انجیل اور خود قرآن میں بھی نازل نہیں ہوئی؟ میں نے عرض کیا ضرور یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اس دروازے سے نہ نکلنے پاؤ گے کہ اسے سیکھ چکے ہوگے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے باتیں کرنے لگے میں اس اندیشے سے کہ کہیں بات مکمل ہونے سے پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دروازے تک نہ پہنچ جائیں، آہستہ آہستہ چلنے لگا جب ہم لوگ دروازے کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کون سی سورت ہے جسے سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ میں نے سورت فاتحہ پڑھ کر سنا دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اللہ نے تورات، زبور، انجیل اور خود قرآن میں اس جیسی سورت نازل نہیں فرمائی اور یہی سورت " سبع مثانی " کہلاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9345]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، و إسنادہ حسن ، خ : 4704 ، مختصرا
الحكم: حدیث صحیح ، و إسنادہ حسن ، خ : 4704 ، مختصرا
حدیث نمبر: 9346 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، كَانَ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ لَهُ قَدْ أَعْجَبَتْهُ، جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے لوگوں میں ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے اوپر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جا رہا تھا کہ اسی اثناء میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9346]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5789 ، م : 2088
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5789 ، م : 2088
حدیث نمبر: 9347 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ، فَالْغَرِيمُ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9347]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2402 ، م : 1559
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2402 ، م : 1559
حدیث نمبر: 9348 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، قُلْتُ: لِمَ أَرَاكَ سَجَدْتَ فِيهَا؟. قَالَ: " لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا مَا سَجَدْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9348]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 768 ، م : 578
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 768 ، م : 578
حدیث نمبر: 9349 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9349]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2087 ، م : 1606
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2087 ، م : 1606
حدیث نمبر: 9350 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: وَكَانَ يَبْتَدِئُ حَدِيثَهُ بِأَنْ يَقُولَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9350]
حکم دارالسلام
حدیث متواتر، وھذا إسناد قوي ، خ : 110 ، م : 3
الحكم: حدیث متواتر، وھذا إسناد قوي ، خ : 110 ، م : 3
حدیث نمبر: 9351 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبُو صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهمُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَمَنْ جَاءَنِي يَمْشِي جِئْتُهُ مُهَرْوِلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9351]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7405 ، م : 2675
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7405 ، م : 2675
حدیث نمبر: 9352 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ. قَالَ: فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا، قَالَ: فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ. وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا، دَعَا جِبْرِيلَ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا، فَأَبْغِضْهُ. قَالَ: فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ، قَالَ: فَيُبْغِضُهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ اے جبریل! میں فلاں بندے سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو اور جبرائیل علیہ السلام آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں پھر یہ نفرت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9352]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7485 ، م : 2637
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7485 ، م : 2637
حدیث نمبر: 9353 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ، وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا، وَلَا لَبِسَ الْكُورَ، مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ" ، يَعْنِي فِي الْجُودِ وَالْكَرَمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جود و سخاوت میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی افضل شخص نے جوتے نہیں پہنے یا پہنائے، یا سواری پر سوار ہوا یا بہترین لباس زیب تن کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9353]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9354 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أما أحدهما فألجأه إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَلْجَأَهُ إِلَى عُمَرَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا: " نَهَى عَنِ الزِّقَاقِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ"، وَقَالَ الْآخَرُ:" نَهَى عَنِ الزِّقَاقِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْجَرِّ أَوْ الْفَخَّارِ" ، شَكَّ مُحَمَّدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ " جن میں سے ایک صاحب رضی اللہ عنہ نے اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کی ہے اور دوسرے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف " کہ انہوں نے مشروبات کے لئے مٹکوں، مزفت دباء اور حنتم کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9354]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1952
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1952
حدیث نمبر: 9355 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَحْدَثَ، أَوْ لَمْ يُحْدِثْ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اپنی دونوں سرینوں کے درمیان حرکت محسوس کرے اور اس مشکل میں پڑجائے کہ اس کا وضو ٹوٹا یا نہیں تو جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ ہونے لگے، اس وقت تک نماز توڑ کر نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9355]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 362
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 362
حدیث نمبر: 9356 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَصَالِحٌ الْمُعَلِّمُ ، وحميد ، ويونس ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَصَالِحٌ الْمُعَلِّمُ ، وحميد ، ويونس , عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9356]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 233 ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و علي بن زید مجھول
الحكم: حدیث صحیح ، م : 233 ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و علي بن زید مجھول
حدیث نمبر: 9357 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9357]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1377 ، م : 588
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1377 ، م : 588
حدیث نمبر: 9358 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ، هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلا وجہ خلع لے کر شوہر سے اپنی جان چھڑانے والی عورتیں منافق ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9358]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9359 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، مَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9359]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 2620
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 2620