يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ". فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: أَيَعْقِلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ، وَلَا اسْتَهَلَّ؟، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا ليقَوْلَ، بقَوْلُ شَاعِرٍ , فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنین کی دیت ایک غرہ یعنی غلام یا باندی ہے جس کے خلاف یہ فیصلہ ہوا اس نے کہا کہ کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جس بچے نے کھایا پیا اور نہ ہی چیخاچلایا (اس کی دیت دی جائے) ایسی چیزوں میں تو نرمی کی جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مقفی عبارتیں شاعروں کی طرح بنا کر کہہ رہا ہے، لیکن مسئلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9655]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5758، م: 1681
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5758، م: 1681