بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 127 از 194
حدیث نمبر: 9640 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2283
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 9641 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 9642 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 9643 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَفَا رَجُلٌ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، وَلَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ قَطُّ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کرلے اللہ اس کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی معاف کردیتا ہے اللہ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2588
الحكم: إسناده صحيح، م: 2588
حدیث نمبر: 9644 مسند احمد
يَحْيَى بن سَعيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بن سَعيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ الدَّرَجَاتِ، وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا؟ كَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا، کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 251
الحكم: إسناده صحيح، م: 251
حدیث نمبر: 9645 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار کے بغیر عام حالت میں ہی آیا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9646 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَفَّ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع ہمیں دی اور عیدگاہ کی طرف روانہ ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
حدیث نمبر: 9647 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9647]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6446، م: 1051
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 9648 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَثَلُ الْقَانِتِ الصَّائِمِ فِي بَيْتِهِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ بِمَا رَجَعَ مِنْ غَنِيمَةٍ، أَوْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنے گھر میں شب زندہ دار اور صائم النہار ہو اسے صیام و قیام کا یہ ثواب اس وقت تک ملتا رہتا ہے جب تک وہ مال غنیمت لے کر اپنے گھر نہ لوٹ آئے یا اللہ اسے وفات دے کر جنت میں داخل کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9648]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9649 مسند احمد
يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں چھپائی گئی ہیں " اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لمبے اور طویل سائے میں ہوں گے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں تم میں سے کسی ایک کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی " جس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9649]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 9650 مسند احمد
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ، مَا يَقْطَعُهَا، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4881، م: 2826
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4881، م: 2826
حدیث نمبر: 9651 مسند احمد
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَقَرَأَ: فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
حدیث نمبر: 9652 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہوجب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9652]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 9653 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9653]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4396، م: 2526
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4396، م: 2526
حدیث نمبر: 9654 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ أَحَدُكُمْ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ أَفْطِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عیدالفطر مناؤ اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزہ رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9654]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 9655 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ". فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: أَيَعْقِلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ، وَلَا اسْتَهَلَّ؟، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا ليقَوْلَ، بقَوْلُ شَاعِرٍ , فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنین کی دیت ایک غرہ یعنی غلام یا باندی ہے جس کے خلاف یہ فیصلہ ہوا اس نے کہا کہ کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جس بچے نے کھایا پیا اور نہ ہی چیخاچلایا (اس کی دیت دی جائے) ایسی چیزوں میں تو نرمی کی جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مقفی عبارتیں شاعروں کی طرح بنا کر کہہ رہا ہے، لیکن مسئلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9655]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5758، م: 1681
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 9656 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ , جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا اچھا خواب " جو وہ خود دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھے " اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9656]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6988، م: 2263
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6988، م: 2263
حدیث نمبر: 9657 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " تَنَامُ عَيْنِي، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9657]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9658 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟، قَالَ: " الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ فرمایا وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9658]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9659 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَغْلِبَنَّكُمْ أَهْلُ الْبَادِيَةِ، عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیہاتی لوگ کہیں تمہاری نماز (عشاء) کے نام پر غالب نہ آجائیں (اور تم بھی اسے " عتمہ " کہنے لگو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9659]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي