بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 134 از 194
حدیث نمبر: 9780 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَاتَّبِعُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَمْرٍ فَاجْتَنِبُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 9781 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ لَهُ سَكْتَةٌ فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
الحكم: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
حدیث نمبر: 9782 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، أَبَا صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9782]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 9783 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، أَبَا صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3010
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 9784 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ اسْتَعْصَتْ. قَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا، وَأْتِ بِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9784]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4392، م: 2524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4392، م: 2524
حدیث نمبر: 9785 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَسْأَلَةٍ، إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ، إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَا لَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان اپنا چہرہ اللہ کے سامنے گاڑ کر کسی چیز کا سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرماتا ہے خواہ جلدی عطاء کرے یا اس کے لئے ذخیرہ کر کے رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9785]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عم عبيدالله
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عم عبيدالله
حدیث نمبر: 9786 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، ابْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ، أَيْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَنَسِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے جب تکبیر ہونے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا مجھ پر غسل واجب تھا لیکن میں غسل کرنا بھول گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9786]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 640، م: 605
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 640، م: 605
حدیث نمبر: 9787 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، يُقْبِلُ إِذَا أَقْبَلَ جَمِيعًا، وَيُدْبِرُ إِذَا أَدْبَرَ جَمِيعًا" . قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ: بِأَبِي وَأُمِّي، " لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا، وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9787]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9788 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أُمِّ الْقُرْآنِ: " هِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَهِيَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا یہی ام القرآن ہے یہی سبع مثانی اور یہی قرآن عظیم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9788]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 9789 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهَاشِمٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهَاشِمٌ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَوْلَا أَمْرَانِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَمْلُوكًا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا خَلَقَ اللَّهُ عَبْدًا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ سَيِّدِهِ، إِلَّا وَفَّاهُ اللَّهُ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ" . قَالَ يَزِيدُ: إِنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ فِي مَالِهِ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9790 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، أُمُّ الْقُرْآنِ، وَأُمُّ الْكِتَابِ , وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا یہی ام القرآن اور ام الکتاب ہے، یہی سبع مثانی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 9791 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَسَتَصِيرُ نَدَامَةً، وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنْعِمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تم لوگ حکمرانی کی خواہش اور حرص کروگے لیکن یہ حکمرانی قیامت کے دن باعث حسرت و ندامت ہوگی پس وہ بہترین دودھ پلانے اور بدترین دودھ چھڑانے والی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7148
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7148
حدیث نمبر: 9792 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " اخْتَصَمَ آدَمُ , وَمُوسَى عليهما السلام، فَخَصَمَ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ؟ أَلَيْسَ تَجِدُ فِيهَا أَنْ قَدْ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي؟ قَالَ: بَلَى" . قَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، قَالَ مُحَمَّدٌ: يَكْفِينِي أَوَّلُ الْحَدِيثِ، فَخَصَمَ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم و موسیٰ (علیہم السلام) کی باہم ملاقات ہوگئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ وہی آدم ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا پھر آپ نے یہ کام کردیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم وہی ہو جس سے اللہ نے کلام کیا اور اس پر تورات نازل فرمائی؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا جی ہاں حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا میری پیدائش سے قبل یہ حکم لکھا ہوا تم نے تورات میں پایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس طرح حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9792]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
حدیث نمبر: 9793 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنوعبدالمطلب سے فرمایا کہ اے بنی عبد المطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی عبدمناف اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے (مال و دولت) مانگ سکتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9793]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3527، م: 206
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3527، م: 206
حدیث نمبر: 9794 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9794]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
حدیث نمبر: 9795 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ، إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا، وَفِيهَا عِوَجٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت ایک خصلت پر کبھی نہیں رہ سکتی وہ تو پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9795]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5184، م: 1468
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5184، م: 1468
حدیث نمبر: 9796 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فُلَانُ، أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟، أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي؟، إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی پچھلی صفوں میں ایک آدمی کھڑا تھا جو نماز صحیح طریقے سے نہیں پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو اسے پکار کر فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ تم کیسی نماز پڑھ رہے تھے؟ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری حرکات مجھ پر مخفی رہتی ہیں بخدا! میں تمہیں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 9797 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5082، م: 2527، محمد بن إسحاق قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5082، م: 2527، محمد بن إسحاق قد توبع
حدیث نمبر: 9798 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيْسَ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُعْطَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے سوال بھی نہ کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9798]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1479، م: 1039
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9799 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة ، وَمُحَمَّدٌ ، عمن ، أَبَا صَالِحٍ السَّمَّانَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة . وَمُحَمَّدٌ ، عمن سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ السَّمَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9799]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2559، م: 2612، له إسنادان: الأول حسن، والثاني ضعيف لإبهام الراوي عن أبي صالح
الحكم: حديث صحيح، خ: 2559، م: 2612، له إسنادان: الأول حسن، والثاني ضعيف لإبهام الراوي عن أبي صالح