بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 41 از 194
حدیث نمبر: 7919 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا مَرَّ بِهِ قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ فُلَانًا. قَالَ: لِقَرَابَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِمَ تَأْتِيهِ؟ قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ. قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ. أَنَّهُ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جا رہا ہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2567.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2567.
حدیث نمبر: 7920 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، فَرْقَدٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْذَبُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ وَالصَّبَّاغُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زرگر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7920]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فرقد ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، فرقد ضعيف.
حدیث نمبر: 7921 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطا فرما دے تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7921]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبدالملك، فلم يتبين من هو.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبدالملك، فلم يتبين من هو.
حدیث نمبر: 7922 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ مامون ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ بھی مامون ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1780.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1780.
حدیث نمبر: 7923 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7923]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 7924 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7925 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" . قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، هُوَ أَبُو بَنِي شَيْبَةَ. حدثني أبي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِتِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ حَدِيثًا، ثُمَّ أَتَمَّهَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَمَامَ مِائَةِ حَدِيثٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لذتوں کو توڑنے والی چیز موت کا تذکرہ کثرت سے کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7925]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7926 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، إِسْحَاقَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا: تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ، وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ، وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ، وَلَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا، وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دَبْرًا، مُسْتَكْبِرِينَ، لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ، خُشُبٌ بِاللَّيْلِ، صُخُبٌ بِالنَّهَارِ" . وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً:" سُخُبٌ بِالنَّهَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا منافقین کی کچھ علامات ہوتی ہیں جن کے ذریعہ انہیں پہچانا جاتا ہے ان کا سلام لعنت (کے الفاظ پر مشتمل) ہوتا ہے ان کا کھانا لوٹ مار کا ہوتا ہے ان کا مال غنیمت خیانت کا ہوتا ہے وہ مساجد کے قریب رہ کر بھی دور ہوتے ہیں نماز کے لئے آتے ہوئے بھی اس سے پیٹھ پھیر رہے ہوتے ہیں متکبر ہوتے ہیں نہ کسی سے الفت کرتے ہیں اور نہ کوئی ان سے الفت کرتا ہے رات میں بانس اور دن میں شور و شغب ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7926]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف عبدالملك وجهالة إسحاق.
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف عبدالملك وجهالة إسحاق.
حدیث نمبر: 7927 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، الْمَعْنَى: أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا شَافِعُوهَا، أَوْ مُنَافِقُوهَا قَالَ أَبُو كَامِلٍ: شَكَّ إِبْرَاهِيمُ، فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: " أَنَا رَبُّكُمْ"، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ. فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ:" أَنَا رَبُّكُمْ"، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتَّبِعُونَهُ. وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُه، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ، وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمْ السَّعْدَانَ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ أَوْ قَالَ: الْمُوثَقُ بِعَمَلِهِ، أَوْ الْمُخَرْدَلُ، وَمِنْهُمْ الْمُجَازَى، قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ: شَكَّ إِبْرَاهِيمُ وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ أَوْ الْمُجَازَى، ثُمَّ يَتَجَلَّى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَهُ، مِمَّنْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ، يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ، تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ: الْحَبَّةُ، أَيْضًا فِي حَمِيلِ السَّيْلِ. وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي دُخَانُهَا، فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فُعِلَ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟" فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَهُ. وَيُعْطِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ:" أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَ مَا أَعْطَيْتُكَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ!" فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، فَيَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَقُولَ لَهُ:" فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟" فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَهُ. فَيُعْطِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ:" أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَ مَا أَعْطَيْتُكَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ!" فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، قَالَ: ادْخُلْ الْجَنَّةَ. فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ:" تَمَنَّهْ". فَيَسْأَلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَتَمَنَّى، حَتَّى إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُذَكِّرُهُ، يَقُولُ: مِنْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ:" لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" . قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ: وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ:" وَمِثْلُهُ مَعَهُ" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ:" ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ فِي ذَلِكَ الرَّجُلِ:" لَكَ عَشَرَةُ أَمْثَالِهِ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو دشواری پیش آتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرکے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں پھر وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بیشک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ ہوگی اور جہنم میں سعدان نامی خار دار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے (چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان پر حرام کردیا ہے کہ وہ انسان سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے (اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کہ اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا وہ کہے گا اے میرے پروردگار مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہ بنا وہ اسی طرح اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آجائے گی تو فرمائیں گے جنت میں داخل ہوجا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7437، م: 182.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7437، م: 182.
حدیث نمبر: 7928 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرِو بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَيَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيِّ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ، جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَانْطَلَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَّةِ، بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ، ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ، فَنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ، حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ التَّمْرَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ، قَالُوا: نَوَى تَمْرِ يَثْرِبَ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ، فَلَمَّا أُخْبِرَ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ، لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ، فَأَحَاطَ بِهِمْ الْقَوْمُ، فَقَالُوا لَهُمْ: انْزِلُوا، وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ، وَلَكُمْ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا. فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا فواللَّهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ، فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ، وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ، مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَلَمَّا تَمَكَّنُوا مِنْهُمْ، أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ: هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ، إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً. يُرِيدُ الْقَتْلَ، فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ، فَقَتَلُوهُ. فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ، حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ، بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ خُبَيْبًا، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا، حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ، فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا لِلْقَتْلِ، فَأَعَارَتْهُ إِيَّاهَا، فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا، قَالَتْ: وَأَنَا غَافِلَةٌ، حَتَّى أَتَاهُ، فَوَجَدْتُهُ يُجْلِسُهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ، قَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنِّي أَقْتُلُهُ؟! مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ، وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا. فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ، قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ: دَعُونِي أَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَتَرَكُوهُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِي جَزَعًا مِنَ الْقَتْلِ لَزِدْتُ. اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا: فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَتَلَهُ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ. وَاسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ، فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ، وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ، حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ، لِيُؤْتَى بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ، وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ، فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس آدمی فوج کی طرف سے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجے اور عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار مقرر کیا چنانچہ وہ جاجوس چلے گئے جب مقام ہدہ میں جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے پہنچے تو قبیلہ ہذیل یعنی بنو لحیان کو ان کا علم ہوگیا اور ایک سو تیرانداز ان کے واسطے چلے اور جس جگہ جاسوسوں نے کھجوریں بیٹھ کر کھائی تھیں جو بطور زادراہ کے مدینہ سے لائے تھے وہاں پہنچ کر کہنے لگے یہ مدینہ کی کھجوریں ہیں پھر وہ کھجوروں کے نشان کی وجہ سے ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے جو کافروں کو دیکھا تو ایک اونچی جگہ پر پناہ لے لی کافروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور کہنے لگے تم اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو ہم اقرار کرتے ہیں کہ کسی کو قتل نہیں کریں گے سردار جماعت یعنی حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ کی قسم آج میں تو کافر کی پناہ میں نہ اتروں گا الٰہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمارے حال کی اطلاع دے دے کفار نے یہ سن کر ان کے تیر مارے اور عاصم سمیت سات آدمیوں کو شہید کردیا با قی تین آدمی یعنی خبیب انصاری زید بن دثنہ اور ایک اور شخص قول وقرار لے کر کفار کی پناہ میں گئے کافروں کا جب ان پر قابو چل گیا تو کمانوں کی تانت اتار کر ان کو مضبوط جکڑ لیا ان میں تیسرا آدمی بولا یہ پہلی عہد شکنی ہے اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا مجھ کو ان شہیدوں کی راہ پر چلنا ہے کافروں نے اس کو پکڑ کر کھینچا اور ہرچند ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ گیا آخر کار اس کو قتل کردیا اور خبیب و ابن دثنہ کو لے چلے اور واقعہ بدر کے بعد دونوں کو فروخت کردیا خبیب کو حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا جنگ بدر کے دن خبیب نے ہی حارث بن عامر کو قتل کیا تھا بہر حال خبیب ان کے پاس قید رہے حارث کی بیٹی کا بیان ہے کہ جب سب کافر خبیب کو شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے تو خبیب نے اصلاح کرنے کے لئے مجھ سے استرا مانگا میں نے دے دیا خبیب نے میرے ایک لڑکے کو ران پر بٹھا لیا مجھے اس وقت خبر نہ ہوئی جب میں اس کے پاس پہنچی اور میں نے دیکھا کہ میرا لڑ کا اس کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا اس کے ہاتھ میں ہے تو میں گھبرا گئی خبیب نے بھی خوف کے آثار میرے چہرہ پر دیکھ کر پہچان لیا اور کہنے لگے کہ کیا تم کو اس بات کا خوف ہے کہ میں اس کو قتل کردوں گا اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا بنت حارث کہتی ہے واللہ میں نے خبیب سے بہتر کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم میں نے ایک روز دیکھا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا انگور کا ایک خوشہ ہاتھ میں لئے کھا رہا ہے حالانکہ ان دونوں مکہ میں میوہ نہ تھا درحقیقت وہ خداداد حصہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو مرحمت فرمایا تھا جب کفار خبیب کو قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر حل میں لے چلے تو قتل ہونے سے قبل خبیب بولے مجھے ذرا چھوڑ دو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں کافروں نے چھوڑ دیا خبیب نے دو رکعتیں پڑھ کر کہا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ یہ لوگ گمان کریں گے کہ موت سے ڈر گیا تو نماز طویل پڑھتا پھر کہنے لگے الہٰی ان سب کو ہلاک کردے ایک کو باقی نہ چھوڑ اس کے بعد یہ شعر پڑھے۔ اگر حالت اسلام میں میرا قتل ہو تو پھر مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ اللہ کے راستہ میں کس پہلو پر میری موت ہوگی میرا یہ مارا جانا اللہ کے راستہ میں ہے اور اگر اللہ چاہے گا تو کٹے ہوئے عضو کے جوڑوں پر برکت نازل فرمائے گا اس کے بعد حارث کے بیٹے نے خبیب کو قتل کردیا۔ حضرت خبیب سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ہر اس مسلمان کے لئے جو اللہ کے راستہ میں گرفتار ہو کر مارا جائے قتل ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ نکالا ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے شہید ہوتے وقت جو دعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے وہ قبول کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر دے دی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے عاصم رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مصائب کی کیفیت بیان فرمادی۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے چونکہ بدر کے دن کفار قریش کے ایک بڑے سردار کو مارا تھا اس لئے کافروں نے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ جا کر عاصم کی کوئی نشانی لے آؤ تاکہ نشانی کے ذریعہ سے عاصم کی شناخت ہوجائے لیکن کچھ بھڑوں (زنبور) نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش کو محفوظ رکھا اور کفار حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے بدن کا گوشت نہ کاٹ سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7928]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 3989.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 3989.
حدیث نمبر: 7929 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَمْشِي، فَإِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي، فَأُهَرْوِلُ فَأَسْبِقُهُ، فَالْتَفَتَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ: تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ، وَخَلِيلِ إِبْرَاهِيمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں گیا میں جب اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے آگے بڑھ جاتے پھر میں دوڑنا شروع کردیتا تو میں آگے نکل جاتا اچانک میری نظر اپنے پہلو کے ایک آدمی پر پڑی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ خلیل ابراہیم کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7929]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحمن بن عبيد.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحمن بن عبيد.
حدیث نمبر: 7930 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نُهِيَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ" . فَقُلْنَا لِهِشَامٍ: ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ بِرَأْسِهِ، أَيْ نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7930]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545.
حدیث نمبر: 7931 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَقُولُ: يَا رَبِّ قُطِعْتُ، يَا رَبِّ ظُلِمْتُ، يَا رَبِّ أُسِيءَ إِلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7931]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالجبار، مجهول.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالجبار، مجهول.
حدیث نمبر: 7932 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
رقم الحديث: 7732 حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، فَقَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمْ الطَّعَامَ، وَصِلْ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے ایسی چیز بتا دیجئے کہ اگر میں اسے تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ طعام کھلاؤ۔ صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7933 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا، مُرْدًا، بِيضًا، جِعَادًا، مُكَحَّلِينَ، أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، عَلَى خَلْقِ آدَمَ، سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي عَرْضِ سَبْعِ أَذْرُعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے جسم بالوں سے خالی ہوں گے وہ نوعمر ہوں گے گورے چٹے رنگ والے ہوں گے گھنگھریالے بال سرمگیں آنکھیں والے ہوں گے ٣٣ سال کی عمر ہوگی حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ساٹھ گز لمبے اور سات گز چوڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7933]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «في عرض سبع أذرع» فقد تفرد بها علي ابن زيد، وهو ضعيف.
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «في عرض سبع أذرع» فقد تفرد بها علي ابن زيد، وهو ضعيف.
حدیث نمبر: 7934 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا ہے کہ وہ جسم کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7934]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عسل.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عسل.
حدیث نمبر: 7935 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسانوں کی روحیں لشکروں کی شکل میں رہتی ہیں سو جس روح کا دوسری کے ساتھ تعارف ہوجاتا ہے ان میں الفت پیدا ہوجاتی ہے اور جن میں تعارف نہیں ہوتا ان میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2638.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2638.
حدیث نمبر: 7936 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجُرُّ أَحَدَ شِقَّيْهِ سَاقِطًا" أَوْ" مَائِلًا"، شَكَّ يَزِيدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو دوسری پر ترجیح دیتا ہو (ناانصافی کرتا ہو) وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اپنے جسم کے گرے ہوئے (فالج زدہ) حصے کو کھینچ رہا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7937 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا عَصَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَتَخْطِمُ الْكَافِرَ، قَالَ عَفَّانُ: أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ، وَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ عَلَى خِوَانِهِمْ، فَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا كَافِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی وہ کافر کی ناک پر مہر سے نشان لگا دے گا اور مسلمان کے چہرے کو عصا کے ذریعے روشن کردے گا یہاں تک کہ لوگ ایک دسترخوان پر اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر پکاریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7937]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد وجهالة أوس.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد وجهالة أوس.
حدیث نمبر: 7938 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ بَعْدَهُ، وَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا، فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہئے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آگئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اسے اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر واپس بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7938]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7393، م: 2714، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7393، م: 2714، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله، وقد توبع.