بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 116 از 194
حدیث نمبر: 9420 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، إِلَّا قَالَ: " يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی آسمان کی طرف اپنا سر اٹھا کر دیکھتے تو فرماتے اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت پر ثابت قدم رکھ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9420]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف صالح
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف صالح
حدیث نمبر: 9421 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَفْتَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ، إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، يَأْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَهُ فَيَعْمِدُ إِلَى الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَأْكُلُ بِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے اوپر " سوال " کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ اس پر فقروفاقہ کا دروازہ کھول دیتا ہے، آدمی رسی پکڑ کر پہاڑ پر جائے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے، یہ بہت بہتر ہے اس سے کہ لوگوں سے جا کر سوال کرے، اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9421]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1470 ، م : 1042
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1470 ، م : 1042
حدیث نمبر: 9422 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے کو حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9422]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1933
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1933
حدیث نمبر: 9423 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ أخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا يَصْعَدُ إلى السَّمَاءَ إِلَّا طَيِّبٌ، إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ " جو حلال قبول کرتا ہے " اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کھجور ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9423]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9424 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاؤُهُمْ، إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ، وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ مسجد کی میخیں ہوتے ہیں ملائکہ ان کے ہم نشین ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہوں تو ملائکہ انہیں تلاش کرتے ہیں، بیمار ہوجائیں تو عیادت کرتے ہیں اور اگر کسی کام میں مصروف ہوں تو ان کی مدد کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9424]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 9425 مسند احمد
وَقَالَ: " جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: أَخٍ مُسْتَفَادٍ، أَوْ كَلِمَةٍ مُحْكَمَةٍ، أَوْ رَحْمَةٍ مُنْتَظَرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا مسجد کے ہم نشین میں تین خصلتیں ہوتی ہیں فائدہ پہنچانے والا بھائی، حکمت کی بات یا وہ رحمت جس کا انتظار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9425]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف کسابقه
الحكم: إسنادہ ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 9426 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَوْرٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ، أَوْ إِلَى آنَافِهِمْ" . شَكَّ ثَوْرٌ بِأَيِّهِمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کا پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا کانوں تک پہنچ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9426]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6432 ، م : 2863
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6432 ، م : 2863
حدیث نمبر: 9427 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَبِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ عِنْدِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ، إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي قَضَاءِ دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دیناریا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے، سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9427]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2389 ، م : 991
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2389 ، م : 991
حدیث نمبر: 9428 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللَّهُ الْأَئِمَّةَ وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار، اے اللہ! اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9428]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9429 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9429]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 7492 ، م : 1151
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 7492 ، م : 1151
حدیث نمبر: 9430 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتْ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غارحراء پر کھڑے تھے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے اسی اثناء میں پہاڑ کی ایک چٹان ہلنے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا رک جا کہ تجھ پر سوائے ایک نبی، صدیق اور شہید کے اور کوئی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9430]
حکم دارالسلام
صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2417
الحكم: صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2417
حدیث نمبر: 9431 مسند احمد
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر بہترین آدمی ہیں، عمر بہترین آدمی ہیں، ابوعبیدہ بن الجراح بہترین آدمی ہیں، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہیں، ثابت بن قیس بہترین آدمی ہیں، معاذ بن جبل بہترین آدمی ہیں، معاذ بن عمرو بن الجموح بہترین آدمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9431]
حکم دارالسلام
إسنادہ قوي
الحكم: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9432 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَارِيَّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَارِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتْ الْأَبْوَابُ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأُغْلِقَتِ الدَّارُ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ، فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ: مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ، وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ؟، وَاللَّهِ لَتُفْتَضَحُنَّ بِدَاوُدَ، فَجَاءَ دَاوُدُ، فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ، فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ، وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي شَيْءٌ. فَقَالَ دَاوُدُ: أَنْتَ وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَمَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ، فَرَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ رُوحُهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ , وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ: أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ، فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمَا الْأَرْضُ، فَقَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ: اقْبِضِي جَنَاحًا جَنَاحًا" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يده , وَغَلَبَتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَحِيَّةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام میں غیرت کا مادہ بہت زیادہ تھا وہ جب گھر سے باہر جاتے تو ان کے گھر کے دروازے بند کر دئیے جاتے اور ان کی واپسی تک ان کے اہل خانہ کے پاس کوئی بھی نہ جاسکتا تھا، ایک دن حسب معمول اور اپنے گھر سے نکلے اور دورازے بند ہوگئے تو ان کی اہلیہ نے گھر میں جھانک کر دیکھا، وہاں وسط گھر میں ایک آدمی کھڑا ہوا دکھائی دیا، انہوں نے گھر میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ گھر کا دروازہ تو بند ہے یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوگیا؟ بخدا! تم داؤد کے سامنے شرمندہ کرواؤ گے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت داؤدعلیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ گھر کے عین بیچ میں ایک آدمی کھڑا ہے، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور کوئی چیز مجھے روک نہیں سکتی، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا بخدا! تم ملک الموت ہو حکم الٰہی کو خوش آمدید اور مٹی پر لیٹ گئے جہاں ان کی روح قبض ہوگئی اور فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوگیا۔ جب سورج طلوع ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ حضرت داؤدعلیہ السلام پر سایا کریں، چنانچہ پرندوں نے ان پر سایا کرلیا، پھر جب زمین پر تاریکی چھا گئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے فرمایا ایک ایک پر کو سمیٹو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پرندوں کی کیفیت عملی طور پر دکھائی اور اپنا ہاتھ بند کرلیا، اس دن لمبے پروں والا شکرہ غالب آگیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9432]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، فإن المطلب لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، فإن المطلب لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9433 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ يُرَبِّيهَا لَهُ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ لَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب مال میں سے کوئی چیزصدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9433]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1410 ، م : 1014
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9434 مسند احمد
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَهُمْ أَوْ شِعْبَهُمْ، الْأَنْصَارُ شِعَارِي، وَالنَّاسُ دِثَارِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا انصار میرا اندر کا کپڑا ہیں اور عام لوگ باہر کا کپڑا ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9434]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
حدیث نمبر: 9435 مسند احمد
وأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ: الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَعَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، ایک تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ، منابذہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9435]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2145 ، م : 1511 ، 1545
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2145 ، م : 1511 ، 1545
حدیث نمبر: 9436 مسند احمد
وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ , مَرَّتَيْنِ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ له؟، مَنْ الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟. فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ میں ہوں حقیقی بادشاہ (دو مرتبہ) کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے ے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخشش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9436]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1145 ، م : 758
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1145 ، م : 758
حدیث نمبر: 9437 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً. فَقَالَ: " لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ" . قَالَ حَفْصٌ: سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ سِتِّينَ سَنَةً , وَلَمْ أَبْلُغْ عَشْرَ سِنِينَ، وَسَمِعْتُ حَفْصًا يَذْكُرُ هَذَا الْكَلَامَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو تم نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9437]
حکم دارالسلام
صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2636
الحكم: صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2636
حدیث نمبر: 9438 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: سَمِعْت أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9438]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9439 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ , ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَدْعُو، فَقَالَ: " أَحِّدْ أَحِّدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو وہ دعاء کر رہے تھے (اور اس دوران دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک انگلی سے اشارہ کرو ایک انگلی سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9439]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد اختلف فیه علی الأعمش
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد اختلف فیه علی الأعمش