بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 108 از 194
حدیث نمبر: 9260 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ وَيَتَّبِعُ شَرَّ مَا يَسْمَعُ , كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا , فَقَالَ لَهُ: أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ. فَقَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا شَاةً. فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس شخص کی مثال " جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس کی مثال شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہے کہ اے چرواہے! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کان پکڑ کرلے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9260]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة أوس
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة أوس
حدیث نمبر: 9261 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ، وَيُدْفَعُ عَنْهَا الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ , فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9261]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5177، م: 1432، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان
الحكم: حديث صحيح، خ: 5177، م: 1432، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 9262 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟، قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ، يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ " فال " سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! " فال " سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 9263 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يُورَدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں کے پاس نہ لایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5770، م: 2220
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5770، م: 2220
حدیث نمبر: 9264 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ، سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ:" كُلُوا"، وَلَمْ يَأْكُلْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 9265 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، رَأَى رَجُلًا مُبَقَّعَ الرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ: أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیادہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ایڑیوں کو خشک چھوڑ دیا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 9266 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الدَّابَّةُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جانور کے زخم سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9267 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إن رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ، فَحَمَلَ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَجَعَلَ لُعَابُهُ يَسِيلُ عَلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً، فَحَرَّكَ خَدَّهُ , وَقَالَ: " أَلْقِهَا يَا بُنَيَّ، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
حدیث نمبر: 9268 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9269 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ، قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ، فَإِنْ لَمْ يُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً مِنْ طَعَامِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی اور محنت سے کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 9270 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ، لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَاعْرِفُوهُ رَجُلًا مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ، كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ، فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ، وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى الْأَرْضِ، حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسُودُ مَعَ الْإِبِلِ، وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ وسفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گو کہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن وامان قائم ہوجائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9270]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
حدیث نمبر: 9271 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِجَالٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جارہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3010
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 9272 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة :" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
الحكم: إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
حدیث نمبر: 9273 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، تَقُولُ يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ، يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ، يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ، يَا رَبِّ. قَالَ: فَيُجِيبُهَا أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا اللہ اسے جواب دے گا کیا تو اس پر بات پر راضی نہیں ہے کہ میں اسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اسے کاٹوں گا جو تجھے کاٹے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9273]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالجبار مجهول
الحكم: حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالجبار مجهول
حدیث نمبر: 9274 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَجْتَمِعُونَ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يَقْرَءُونَ وَيَتَعَلَّمُونَ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ بِهِ الْعِلْمَ، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ يُبْطِئُ بِهِ عَمَلُهُ لَا يُسْرِعُ بِهِ نَسَبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرے اور آپس میں اس کا ذکر کرے اس پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے رحمت الہٰی ان پر چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجودفرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے اور جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے جنت راستہ آسان کردیتا ہے اور جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2699
الحكم: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 9275 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمٌ ، سَعِيدٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9276 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا نَقْتُلُهُنَّ، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا، فَقُلْنَا: مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ؟!، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا بَأْسَ , صَيْدُ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9276]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، أبو المهزم متروك الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً، أبو المهزم متروك الحديث
حدیث نمبر: 9277 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَمَّنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سمعتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو کے لئے اور دو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے کفایت کرجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9277]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5392، م: 2058، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5392، م: 2058، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9278 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ" ، وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ إِذَا قَالَ:" وَأَمْرَ الْعَامَّةِ"، قَالَ: أَيْ أَمْرُ السَّاعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج، تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2947
الحكم: إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 9279 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ , قَالَ: " إِنَّهُ مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ وَلَا يَبْؤَُسْ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ نازونعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنانہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824، 2836
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824، 2836