بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 163 از 194
حدیث نمبر: 10360 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَأْتُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا، قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ قَالَ: خَمْسَ مِرَارٍ , جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَجَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكْ الْجُمُعَةَ، أَوْ لَمْ يُدْرِكْ الْخُطْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا فلاں آدمی آیا تو اسے صرف نماز ملی اور جمعہ نہیں ملا یہ اس وقت لکھتے ہیں جبکہ کسی کو خطبہ نہ ملا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10360]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
حدیث نمبر: 10361 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مَعَهَا عَصَا مُوسَى، وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ، فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا، وَتَخْتِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ، فَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا كَافِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی وہ کافر کی ناک پر مہر سے نشان لگا دے گا اور مسلمان کے چہرے کو عصا کے ذریعے روشن کردے گا یہاں تک کہ لوگ ایک دسترخوان پر اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر پکاریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10361]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
حدیث نمبر: 10362 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، فَاخْتَلَفُوا فِيهَا، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا، فَالنَّاسُ لَنَا تَبَعٌ، فَالْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پر سوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10362]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 10363 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ، أَوْ تَعْمَلْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2528، م: 127
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2528، م: 127
حدیث نمبر: 10364 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10364]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شتير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شتير
حدیث نمبر: 10365 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وَيَزِيدُ , قََالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں نماز پڑھنے کے لئے بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10366 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10367 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246
حدیث نمبر: 10368 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، لِيَقُلْ: فَتَايَ، فَتَاتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی امتی بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 10369 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ: قال أَبُو الْقَاسِمِ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
حدیث نمبر: 10370 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَبَيْعَتَيْنِ: وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَأَنْ يَرْتَدِيَ فِي ثَوْبٍ يَرْفَعُ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ، وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَاللَّمْسُ وَالْإِلْقَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے الاّ یہ کہ وہ اس کے دو کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لے اور بیع ملامسہ اور پتھر پھینک کر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ فائدہ بیع ملامسہ کا مطلب یہ ہے کہ خریدار یہ کہہ کردے کہ میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ اتنے روپے کی میری ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 10371 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 10372 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 10373 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَيَزِيدُ , قََالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حَيْثُ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَاهُمْ عَنْ الْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْمَزَادَةِ , الْمَجْبُوبَةِ، وَقالَ: انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ، وَأَوْكِهِ، وَاشْرَبْهُ حُلْوًا طَيِّبًا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذِهِ، قَالَ:" إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ" ، قَالَ يَزِيدُ: وَفَتَحَ هِشَامٌ يَدَهُ قَلِيلًا، فَقَالَ:" إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ"، وَفَتَحَ يَدَهُ شَيْئًا أَرْفَعَ مِنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب بنوعبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حنتم، نقیر، مزفت اور توشہ دان سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے مشکیزے میں نبیذ بناؤ اس کا منہ بند کردو اور شیریں و پاکیزہ پی لو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے اتنی سی کی اجازت دے دیجئے (راوی نے ہاتھ سے اشارہ کرکے دکھایا) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعد میں تم اسے اتنا بنا لوگے (راوی نے پہلے کی نسبت ہاتھ کو زیادہ کھول کر اشارہ کرکے دکھایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1993
الحكم: إسناده صحيح، م: 1993
حدیث نمبر: 10374 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10374]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وإسناده ضعيف لجهالة حيان
الحكم: حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وإسناده ضعيف لجهالة حيان
حدیث نمبر: 10375 مسند احمد
بَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ: لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا مَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ"، قَالَ: قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، إسناده ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
الحكم: حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، إسناده ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
حدیث نمبر: 10376 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ صَدَقَةً لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ كَانَ هَدِيَّةً أَكَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 10377 مسند احمد
بَهْزٌ ، الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10378 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، قََالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَفَّانُ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: " يَا ابْنَ آدَمَ، حَمَلْتُكَ عَلَى الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، وَزَوَّجْتُكَ النِّسَاءَ، وَجَعَلْتُكَ تَرْبَعُ، وَتَرْأَسُ، فَأَيْنَ شُكْرُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے ابن آدم میں نے تجھے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کرایا عورتوں سے تیرا نکاح کروایا اور میں نے تجھے سیادت عطاء کی ان تمام چیزوں کا شکر کہاں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2968
الحكم: إسناده صحيح، م: 2968
حدیث نمبر: 10379 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ: " أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَقَالَ: يَا رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ"، ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَيَقُولُ: اعْمَلْ مَا شِئْتَ، قَدْ غَفَرْتُ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار! مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758