بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 32 از 194
حدیث نمبر: 7739 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7739]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن جريج روى عن عطاء بعد الاختلاط، لكن الحديث صحيح باللفظ: «إلا المسجد الحرام» ، خ: 1190، م: 1394.
الحكم: إسناده ضعيف، ابن جريج روى عن عطاء بعد الاختلاط، لكن الحديث صحيح باللفظ: «إلا المسجد الحرام» ، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7740 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَهُ، وَلَمْ يَشُكَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بغیر شک کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7740]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه.
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7741 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" ، قُلْتُ لِأَيُّوبَ:" مَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى؟" قَالَ: عَنْ فَضْلِ غِنَاكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہترین صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1426.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1426.
حدیث نمبر: 7742 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً، فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ، فَيَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً، فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ" . قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ سورة النساء آية 13 إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ مُهِين سورة النساء آية 14.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان ستر سال تک نیکو کاروں والے اعمال سر انجام دیتا ہے لیکن جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ناانصافی کرتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ بدترین عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے جبکہ دوسرا آدمی ستر سال تک گناہگاروں والے اعمال سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف سے کام لیتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو تلک حدود اللہ الی قولہ عذاب مہین۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7742]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر.
حدیث نمبر: 7743 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَلْجَجَ أَحَدُكُمْ بِالْيَمِينِ فِي أَهْلِهِ، فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے متعلق اپنی قسم پر (غلط ہونے کے باوجود) اصرار کرے تو یہ اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں اس کفارہ سے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے زیادہ بڑے گناہ کی بات ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7743]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6625، م: 1655.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6625، م: 1655.
حدیث نمبر: 7744 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانَ ، دَاوُدَ ، شَيْخٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَيْخٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ، فَلْيَخْتَرْ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں انسان کو لاچاری اور فسق و فجور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا جو شخص وہ زمانہ پائے اسے چاہئے کہ لاچاری کو فسق و فجور پر ترجیح دے کر اسی کو اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7744]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الراوي المبهم.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الراوي المبهم.
حدیث نمبر: 7745 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَبِي ، مِينَاءُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنَا مِينَاءُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ حِمْيَرَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: الْعَنْ حِمْيَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ، أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ، وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ، أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کیجیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا وہ دوسری جانب سے سامنے آیا اور پھر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعراض کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ قبیلہ حمیر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ان کی زبانوں پر سلام اور ہاتھوں میں (دوسروں کے لئے) طعام ہوتا ہے اور یہ امن و ایمان والے لوگ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7745]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، ميناء متروك.
الحكم: إسناده ضعيف جدا، ميناء متروك.
حدیث نمبر: 7746 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَْنُثِرْ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7746]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7747 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ، فَيَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ:" عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7747]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، المثنى ضعيف اختلط بآخرة.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، المثنى ضعيف اختلط بآخرة.
حدیث نمبر: 7748 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَسْتَفْتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 768.
الحكم: إسناده صحيح، م: 768.
حدیث نمبر: 7749 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا، فَلْيُصَلِّ وَلْيَدْعُ لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے نہ ہو تو اسے کھا لینا چاہئے اور اگر روزے سے ہو تو ان کے حق میں دعا کرنی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1431.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1431.
حدیث نمبر: 7750 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " الْفَأْرَةُ مَمْسُوخَةٌ، بِآيَةِ أَنَّهُ يُقَرَّبُ لَهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ فَلَا تَذُوقُهُ، وَيُقَرَّبُ لَهَا لَبَنُ الْغَنَمِ فَتَشْرَبُهُ، أَوْ قَالَ: فَتَأْكُلُهُ" . فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" أَفَنَزَلَتْ التَّوْرَاةُ عَلَيَّ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے؟ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7750]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7751 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا فَرَعَ، وَلَا عَتِيرَةَ" ، وَالْفَرَعُ: أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ، فَيَذْبَحُونَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7751]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976.
حدیث نمبر: 7752 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دباء اور مزفت حنتم اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7752]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1993.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1993.
حدیث نمبر: 7753 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7753]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1985.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1985.
حدیث نمبر: 7754 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا، وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حِمًى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے اس لئے اگر میں مدینہ منورہ میں ہر نوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ کے آس پاس بارہ میل کی جگہ کو چرا گاہ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1873، م: 1372.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1873، م: 1372.
حدیث نمبر: 7755 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، الْقَرَّاظَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ، يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7755]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1386.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1386.
حدیث نمبر: 7756 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلَمْ يُؤَدِّ حَقَّهُ، جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَتْبَعُهُ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيهِ، فَلَا يَزَالُ يَقْضِمُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس مال و دولت ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو دھاریں ہوں گی بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر اسے چبانے لگا اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک بندوں کے درمیان فیصلہ شروع نہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7756]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6958، م: 987.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6958، م: 987.
حدیث نمبر: 7757 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، مَكْحُولٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7757]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1464، م: 982، وهذا الإسناد فيه هنا انقطاع، مكحول لم يسمع من عراك هذا الحديث بعينه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1464، م: 982، وهذا الإسناد فيه هنا انقطاع، مكحول لم يسمع من عراك هذا الحديث بعينه.
حدیث نمبر: 7758 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب انہیں تقسیم کرکے فارغ ہوئے تو امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کجھور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر ان کے منہ میں سے وہ کجھور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069.