عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب انہیں تقسیم کرکے فارغ ہوئے تو امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کجھور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر ان کے منہ میں سے وہ کجھور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069.