عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُسْتَأْمَرُ الثَّيِّبُ، وَتُسْتَأْذَنُ الْبِكْرُ"، قَالُوا: وَمَا إِذْنُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" تَسْكُتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419.