بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 99 از 194
حدیث نمبر: 9080 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، مُحَمَّدٍ بَيَّاعِ الْمُلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بَيَّاعِ الْمُلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الآخِرِينَ سورة الواقعة آية 13 - 14، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَنَزَلَتْ: ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الآخِرِينَ سورة الواقعة آية 39 - 40، فَقَالَ: " أَنْتُمْ ثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، بَلْ أَنْتُمْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَتُقَاسِمُونَهُمْ النِّصْفَ الْبَاقِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ثلۃ من الاولین و قلیل من الآخرین " تو مسلمانوں پر یہ بات بڑی شاق گذری (کہ پچھلے لوگوں میں سے صرف تھوڑے سے لوگ جنت کے لئے ہوں گے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایک گروہ پہلوں کا اور دوسرا گروہ پچھلوں کا ہوگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ تمام اہل جنت کا ثلث بلکہ نصف ہوگے اور نصف باقی میں وہ تمہارے شریک ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9080]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9081 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَبِّئْنِي بِأَحَقِّ النَّاسِ مِنِّي صُحْبَةً، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ"، قَالَ: مَنْ؟، قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" أَبُوكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا تمہیں اس کا جواب ضرور ملے گا اس نے کہا کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہارے والد۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9081]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
حدیث نمبر: 9082 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ خَلْقًا كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا مِثْلَ خَلْقِي، ذَرَّةً أَوْ ذُبَابَةً أَوْ حَبَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک مکھی پیدا کر کے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9082]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7559، م: 2111، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك النخعي
الحكم: حديث صحيح، خ: 7559، م: 2111، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك النخعي
حدیث نمبر: 9083 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ عُمَيْرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَيْرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَال عَلَى الْمِنْبَرِ: " أَشْعَرُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ. وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برسر منبر فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیزباطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9083]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف، شريك وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف، شريك وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 9084 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُونَ حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى رَأْسِ ذَلِكَ , أَوْ مِلَاكِ ذَلِكَ؟، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ" . وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ان چیزوں کی جڑ نہ بتادوں؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9084]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 54، وهذا إسناد فيه شريك، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 54، وهذا إسناد فيه شريك، وقد توبع
حدیث نمبر: 9085 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9086 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9086]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6155، م: 2257، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6155، م: 2257، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 9087 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، يَأْتِي الْجُرْحُ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9087]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، شريك وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، شريك وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 9088 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، رَفَعَهُ , قَالَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ: وَهُوَ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ وَهُوَ فِي سُنْبُلِهِ بِالْحِنْطَةِ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ: وَهُوَ شِرَاءُ الثِّمَارِ بِالتَّمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع محاقلہ یعنی پھل کی بیع جبکہ وہ خوشوں میں ہی ہو گندم کے بدلے کرنے سے منع فرمایا ہے اور بیع مزابنہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کا معنی ہے پھل کی بیع کھجور کے بدلے کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9088]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1545، 1511
الحكم: حديث صحيح، م: 1545، 1511
حدیث نمبر: 9089 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، رَفَعَهُ , قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ، رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9089]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2113، شريك بن عبدالله وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2113، شريك بن عبدالله وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 9090 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، شَرِيكٌ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُبْعَثُ النَّاسُ وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9090]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وليث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وليث
حدیث نمبر: 9091 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنُ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام مِنْهُ الْحَيَاءُ وَالسِّتْرُ، وَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ، فَطَعَنُوا فِيهِ بِعَوْرَةٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ يَوْمًا، وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ، فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ بِثِيَابِهِ، فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ، ثَوْبِي يَا حَجَرُ، حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَتَوَسَّطَهُمْ، فَقَامَتْ، وَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ , فَنَظَرُوا، فَإِذَا أَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلُهُمْ صُورَةً، فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ: قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شرم حیاء کی وجہ سے تنہا غسل فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان کی شرم گاہ میں عیب لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے قریب پہنچ کر وہ پتھر رک گیا ان کی نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ پر پڑگئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے اور صورت کے اعتبار سے انتہائی حسین اور معتدل ہیں اور وہ کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد پر اللہ کی مار ہو اس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بری کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9091]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 278، م: 339، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 278، م: 339، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 9092 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا هِجْرَةَ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ، دَخَلَ النَّارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں جو شخص تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے بول چال بند رکھے اور مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9092]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لكن منصورا شك في رفعه هنا، فالصحيح من الحديث مرفوعا: « لا هجرة فوق ثلاث » فقط، م: 2562
الحكم: رجاله ثقات لكن منصورا شك في رفعه هنا، فالصحيح من الحديث مرفوعا: « لا هجرة فوق ثلاث » فقط، م: 2562
حدیث نمبر: 9093 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَمَّنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَرْقُدَنَّ جُنُبًا حَتَّى تَتَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حالت جنابت میں مت سویا کرو بلکہ وضو کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9093]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9094 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 9095 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَقِيَ آدَمَ مُوسَى، فَقَالَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، ثُمَّ صَنَعْتَ مَا صَنَعْتَ؟!، فَقَالَ آدَمُ لِمُوسَى: أَنْتَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ؟، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَهَلْ تَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم و موسیٰ (علیہم السلام) کی باہم ملاقات ہوگئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ وہی آدم ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا پھر آپ نے یہ کام کردیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم وہی ہو جس سے اللہ نے کلام کیا اور اس پر تورات نازل فرمائی؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا جی ہاں حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا میری پیدائش سے قبل یہ حکم لکھا ہوا تم نے تورات میں پایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس طرح حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
حدیث نمبر: 9096 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، دَاوُدَ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْثَرُ مَا يَلِجُ بِهِ الْإِنْسَانُ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ، وَالْفَرْجُ، وَأَكْثَرُ مَا يَلِجُ بِهِ الْإِنْسَانُ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی اور لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9096]
حکم دارالسلام
حديث حسن بالمتابعات
الحكم: حديث حسن بالمتابعات
حدیث نمبر: 9097 مسند احمد
يُونُسُ ، الْمَسْتُورُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبَّادٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْتُورُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَجُلٌ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، قَالَ:" لَا , وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اس وقت وہ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے اس نے کہا کہ اے ابوہریرہ! کیا آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا بیت اللہ کے رب کی قسم! نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9098 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ الْأَنْصَارِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّانَاج ، أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ الْأَنْصَارِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّانَاج ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثَلَاثَةٌ حَفِظْتُهُنَّ عَنْ خَلِيلِي أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تین چیزیں محفوظ کی ہیں۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کے وقت دو رکعتیں پڑھنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 9099 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ الْمَخْزُومِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ مَوْلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَاءَهُ نَاسٌ صَيَّادُونَ فِي الْبَحْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ أَرْمَاثٍ، وَإِنَّا نَتَزَوَّدُ مَاءً يَسِيرًا إِنْ شَرِبْنَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَإِنْ تَوَضَّأْنَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَشْرَبُ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، فَهُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9099]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ووقع فى إسناد المصنف هنا خطأ، والصواب أنه من رواية سعيد بن سلمة عن المغيرة ابن أبي بردة عن أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، ووقع فى إسناد المصنف هنا خطأ، والصواب أنه من رواية سعيد بن سلمة عن المغيرة ابن أبي بردة عن أبي هريرة