بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 121 از 194
حدیث نمبر: 9520 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِهِ، حَتَّى تَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَضَلَّتَا , فَصِيلَيْهِمَا فِي بَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ بِيَدِ أَوْ قَالَ: فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ، هِيَ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں شہید کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہونے پاتا کہ اس کے پاس اس کی دو جنتی بیویاں سبقت کر کے پہنچ جاتی ہیں اور وہ اس ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہوئی آتی ہیں جنہوں نے زمین کے کسی حصے میں اپنے بچوں کو سایہ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہو، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوڑا ہوتا ہے جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9520]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لجھالة ھلال و ضعف شھر
الحكم: إسنادہ ضعیف لجھالة ھلال و ضعف شھر
حدیث نمبر: 9521 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، وَحَسَبِهَا، وَدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت سے چار وجوہات کی بناء پر نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال و دولت کی وجہ سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اس کے حسب نسب کی وجہ سے اور ان کے دین کی وجہ سے تو دین دار کو منتخب کر کے کامیاب ہوجاؤ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9521]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5090 ، م : 1466
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5090 ، م : 1466
حدیث نمبر: 9522 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَسِيرُ، فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ؟". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا. قَالَ: " أَخِّرْهَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو لعنت ملامت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں حاضر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس اونٹنی کو پیچھے لے جاؤ کہ اس کے بارے میں تمہاری بات قبول ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9522]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9523 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ أَنْبِيَاءَهُمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَيْهِمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9523]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7288 ، م : 1337
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7288 ، م : 1337
حدیث نمبر: 9524 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ فَإِنْ تَحْرِصْ عَلَى إِقَامَتِهِ تَكْسِرْهُ، وَإِنْ تَتْرُكْهُ تَسْتَمْتِعْ بِهِ وَفِيهِ عِوَجٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9524]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 3331 ، م : 1468
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 3331 ، م : 1468
حدیث نمبر: 9525 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ فِي بَيْتِكَ فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری دے مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9525]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، له إسنادان ، الأول جید ، والثاني قوي ، خ : 6902 ، م : 2158
الحكم: حدیث صحیح ، له إسنادان ، الأول جید ، والثاني قوي ، خ : 6902 ، م : 2158
حدیث نمبر: 9526 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْأَسْفَلُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" , أَمَامَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَخَلْفَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی نیچے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9526]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9527 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟، قَالَ:" الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے جہالت کا غلبہ نہ ہوجائے اور " ہرج " کی کثرت نہ ہونے لگے کسی نے پوچھا کہ ہرج کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9527]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7061 ، م : 2672
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7061 ، م : 2672
حدیث نمبر: 9528 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَبْلَى وَيَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھاجائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9528]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 2955
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 2955
حدیث نمبر: 9529 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ , فَيُنَادِيَ:" أَنْ لَا صَلَاةَ، إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ باہر نکل کر اس بات کی منادی کردیں کہ سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی دوسری سورت کی قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9529]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف جعفر
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف جعفر
حدیث نمبر: 9530 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلَا يَقُلْ: آهْ آهْ , فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فَتَحَ فَاهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ أَوْ بِهِ" . قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ، فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ لہذا جس آدمی کو چھینک آئے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو ہر سننے والے پر حق ہے کہ یرحمک اللہ کہے اور جب کسی کو جمائی آئے تو حتی الامکان اسے روکے اور ہاہا نہ کہے کیونکہ جب آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9530]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3289 ، م : 2995
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3289 ، م : 2995
حدیث نمبر: 9531 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِهْرَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ، أَعْظَمُ أَجْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد سے جتنے زیادہ فاصلے سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9531]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة عبد الرحمن بن مھران
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة عبد الرحمن بن مھران
حدیث نمبر: 9532 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَجْلَانُ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، وَإِنْ سَبَّكَ إِنْسَانٌ , فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہو تو اسے کوئی گالی گلوچ کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9532]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1894 ، م : 1151
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1894 ، م : 1151
حدیث نمبر: 9533 مسند احمد
يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، يَزِيْدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيْدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , نَاوِلِينِي الثَّوْبَ". قَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ أُصَلِّي. قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ"، فَنَاوَلَتْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا مجھے کپڑا پکڑا دو انہوں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری ناپاکی تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کپڑا پکڑا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9533]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 299
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 299
حدیث نمبر: 9534 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ"، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم نے کسی سفر میں رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا، ہم سونے کے بعد طلوع آفتاب سے قبل بیدار نہ ہو سکے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے نکل جائے) کیونکہ اس جگہ شیطان ہم پر غالب آگیا ہے چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر نماز فجر سے پہلے کی دو سنتیں پڑھیں، پھر اقامت کہی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9534]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 680
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 680
حدیث نمبر: 9535 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ"، قَالَ: فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ، فَذَلِكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمع ہوجاؤ میں تمہیں ایک تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا چنانچہ جمع ہونے والے جمع ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور سورت اخلاص کی تلاوت فرمائی اور واپس گھر میں داخل ہوگئے ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے اس لئے آپ گھر چلے گئے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں ایک تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9535]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 812
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 812
حدیث نمبر: 9536 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَوْفٍ ، خِلَاسٌ ، أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو گویا اس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت سے کفر کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9536]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، وھذا إسناد منقطع من جھة خلاس ، فإنه لم یسمع من أبي ھریرۃ ، ومرسل من جھة الحسن البصري
الحكم: حدیث حسن ، وھذا إسناد منقطع من جھة خلاس ، فإنه لم یسمع من أبي ھریرۃ ، ومرسل من جھة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9537 مسند احمد
يَحْيَى ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَتَادَةُ ، بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَوْ تَشَاجَرْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَدَعُوا سَبْعَةَ أَذْرُعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب راستے کی پیمائش میں تم لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز پر اتفاق کر کے دور کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9537]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2473 ، م : 1613
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2473 ، م : 1613
حدیث نمبر: 9538 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ تَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيَّتَانِ، أَوْ ثَلَاثَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی جس نے دو تین دینار چھوڑے تھے (جو مال غنیمت میں خیانت کر کے لئے گئے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9538]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9539 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9539]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن