يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَسِيرُ، فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ؟". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا. قَالَ: " أَخِّرْهَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو لعنت ملامت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں حاضر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس اونٹنی کو پیچھے لے جاؤ کہ اس کے بارے میں تمہاری بات قبول ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9522]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید