بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 122 از 194
حدیث نمبر: 9540 مسند احمد
وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9540]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
حدیث نمبر: 9541 مسند احمد
مَكِيٌّ
حَدَِّثَنَا مَكِيٌّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنَ النَّارِ".
حکم دارالسلام
إسناد صحیح ، انظر ما قبله
الحكم: إسناد صحیح ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9542 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبُو يَحْيَى ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9542]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9543 مسند احمد
يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ" ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا السَّامُ؟، قَالَ:" الْمَوْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9543]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
حدیث نمبر: 9544 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَيَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَيَعْلَى , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو مِثْلَهُ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9544]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، انظر ما قبله
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9545 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَ ثُومٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسجد میں لہسن کی بدبو آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت (لہسن) میں کچھ کھا کر آئے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9545]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 563
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 563
حدیث نمبر: 9546 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا، أَوْ جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے اور اس شخص کی میراث بن جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9546]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2626 م : 1626
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2626 م : 1626
حدیث نمبر: 9547 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9547]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9548 مسند احمد
يَحْيَى ، عَوْفٍ ، خِلَاسٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ دَجَّالِينَ كَذَّابِينَ، كُلُّهُمْ يَقُولُ: أَنَا نَبِيٌّ، أَنَا نَبِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے تیس کے قریب دجال و کذاب لوگ آئیں گے جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9548]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 3609 ، م : 157 ، وھذا إسناد منقطع ، خلاس لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 3609 ، م : 157 ، وھذا إسناد منقطع ، خلاس لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9549 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، أَوْ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9549]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 887 ، م : 252
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 887 ، م : 252
حدیث نمبر: 9550 مسند احمد
يَحْيَى ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَاسْتَخْلَفَهُ مَرَّةً، فَصَلَّى الْجُمُعَةَ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَشَيْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ، قَرَأَ بِهِمَا عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: " قَرَأَ بِهِمَا حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی رافع " جو حضرت علی علیہ السلام کے کاتب تھے " کہتے ہیں کہ مروان اپنی غیر موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا جانشین بنا کرجاتا تھا ایک مرتبہ اس نے انہیں اپنا جانشین بنایا تو نماز جمعہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہی پڑھائی اور اس میں سورت منافقوں کی تلاوت فرمائی، نماز سے فارغ ہو کر میں ان کی ایک جانب چلنے لگا، راستے میں میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ نے بھی وہی دو سورتیں پڑھیں جو حضرت علی علیہ السلام پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ دراصل میرے محبوب! ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی دو سورتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9550]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 877
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 877
حدیث نمبر: 9551 مسند احمد
يَحْيَى ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَأَقَامَ حَتَّى تُدْفَنَ رَجَعَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَرَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی نماز جنازہ ایمان اور ثواب کی نیت سے پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9551]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1325 ، م : 945
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1325 ، م : 945
حدیث نمبر: 9552 مسند احمد
يَحْيَى ، عَوْفٍ ، خِلَاسٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ، مَثَلُ الْكَلْبِ إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خواب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کر دے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9552]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد منقطع ، خلاس لم یسمع من أبي ھریرۃ ، قد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد منقطع ، خلاس لم یسمع من أبي ھریرۃ ، قد توبع
حدیث نمبر: 9553 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ . قَالَ غُنْدَرٌ فِي حَدِيثِهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي هُرَيْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَا بها، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدَّخِرَ دَعْوَتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ، شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فِي أُمَّتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9553]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م : 199
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م : 199
حدیث نمبر: 9554 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ . وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَمُرُّ بِنَا، وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَطْهَرَةِ، فَيَقُولُ لَنَا: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" ، قَالَ حَجَّاجٌ:" الْعَقِبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کر رہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9554]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م : 242
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م : 242
حدیث نمبر: 9555 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَيَضْرِبُ بِرِجْلِهِ، فَيَقُولُ: خَلُّوا الطَّرِيقَ، خَلُّوا، قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ، قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ، إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ بعض اوقات مروان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر کرجاتا تھا وہ اسے پاؤں سے ٹھوکر مارتے اور کہتے کہ راستہ چھوڑ دو، امیر آگیا، امیر آگیا اور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9555]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5788 ، م : 2087
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5788 ، م : 2087
حدیث نمبر: 9556 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9556]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081
حدیث نمبر: 9557 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا، فَإِذَا انْتَعَلْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9557]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5856 ، م : 2097
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5856 ، م : 2097
حدیث نمبر: 9558 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ، أو لُقْمةَ أو لُقْمَتين وقال ابن جعفر: أَكْلة أَو أَكلتينِ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9558]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2557 ، م : 1663
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2557 ، م : 1663
حدیث نمبر: 9559 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَرَدَّهَا، رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، لَا سَمْرَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالہ کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9559]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2151 ، م : 1524
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2151 ، م : 1524