يَحْيَى ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَاسْتَخْلَفَهُ مَرَّةً، فَصَلَّى الْجُمُعَةَ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَشَيْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ، قَرَأَ بِهِمَا عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: " قَرَأَ بِهِمَا حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی رافع " جو حضرت علی علیہ السلام کے کاتب تھے " کہتے ہیں کہ مروان اپنی غیر موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا جانشین بنا کرجاتا تھا ایک مرتبہ اس نے انہیں اپنا جانشین بنایا تو نماز جمعہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہی پڑھائی اور اس میں سورت منافقوں کی تلاوت فرمائی، نماز سے فارغ ہو کر میں ان کی ایک جانب چلنے لگا، راستے میں میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ نے بھی وہی دو سورتیں پڑھیں جو حضرت علی علیہ السلام پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ دراصل میرے محبوب! ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی دو سورتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9550]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 877
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 877