بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 146 از 194
حدیث نمبر: 10020 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، مروان الأصفر ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مروان الأصفر , وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا رَافِعٍ ، قََالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1، قََالَ: قُلْتُ: تَسْجُدُ فِيهَا؟ قََالَ: رَأَيْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْجُدُ فِيهَا، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
الحكم: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 10021 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " الْوَلَدُ لِرَبِّ الْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458
حدیث نمبر: 10022 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، إِذَا فَقِهُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ فقہیہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10023 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10023]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 10024 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ وضو کو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10025 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ إِلَّا الصَّوْمَ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ کے علاوہ ہر عمل کا کفارہ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10026 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10027 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ، ثُمَّ حَمَلَ الْحَسَنَ , أَوْ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ، وَإِنََّ لُعَابُهُ لَيَسِيلُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فََإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَقَالَ:" أَلْقِهَا، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
حدیث نمبر: 10028 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَمْرٍ فَاجْتَنِبُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10029 مسند احمد
عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وَقََالَ: يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ , يَقُولُ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ البتہ راہ راست پر رہو قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6637
حدیث نمبر: 10030 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے میں تم میں سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کروں گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو دوسرے اونٹوں سے دور کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10030]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302
حدیث نمبر: 10031 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَأْتِي عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، لَيْسَ شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو میں ایک دینار بھی چھوڑ کر مرنا پسند نہیں کروں گا سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10031]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 10032 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي يُوقِدُونَ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً، فَقَالَ:" لَقَدْ فُضِّلَتْ عَلَيْهِ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا حَرًّا فَحَرًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہاری یہ آگ جسے بنی آدم جلاتے ہیں جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! واللہ یہ ایک جز بھی کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ اس سے ٦٩ درجے زیادہ تیز ہے اور ان میں سے ہر درجہ اس کی حرارت کی مانند ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10032]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
حدیث نمبر: 10033 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ، إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے نازوتکبر کی چال چلتا ہوا جارہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
حدیث نمبر: 10034 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تُرْسِلْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10035 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: " الدَّابَّةُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10035]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10036 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَبَهْزٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قََالَ: بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ , أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ رَجُلًا قََالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی یہ دو سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10036]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 877، وهذا إسناد منقطع، فإن محمد بن علي لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، م: 877، وهذا إسناد منقطع، فإن محمد بن علي لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10037 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَبَا عَلْقَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي" . " إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ، فَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا قَال: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الْأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ، غُفِرَ لَهُ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امیر کی حیثیت ڈھال کی سی ہوتی ہے لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 734، م: 414، 1835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 734، م: 414، 1835
حدیث نمبر: 10038 مسند احمد
قََالَ: " وَيَهْلِكُ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَيَهْلِكُ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا اور کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں رہے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10038]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918
حدیث نمبر: 10039 مسند احمد
قََالَ: " وَكَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے، عذاب جہنم سے، قبر سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588