بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 59 از 194
حدیث نمبر: 8279 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3375، م: 151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3375، م: 151
حدیث نمبر: 8280 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ، فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتْ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنْ عَلِمْنَا مَا السِّكِّينُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے اچانک کہیں سے ایک بھیڑیا آیا اور ایک لڑکے کو اٹھا کرلے گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ جو بچہ رہ گیا ہے وہ بڑی والی کا ہے وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں بلالیا اور فرمانے لگے کہ چھری لے کر آؤ میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تمہیں دے دیتا ہوں یہ سن کر چھوٹی والی کہنے لگی کہ اللہ آپ رحم فرمائے یہ اسی کا بچہ ہے (کم از کم زندہ تو رہے گا) آپ اسے دو حصوں میں تقسیم نہ کریں چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی والی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ چھری کے لئے عربی میں سکین کا لفظ ہمارے علم میں اسی دن آیا اس سے پہلے ہم اسے مدیہ کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3427، م: 1720
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3427، م: 1720
حدیث نمبر: 8281 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيَمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ بَعْدَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ" مُخَفَّفَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے جس جگہ ختنے کئے اس کا نام قدوم تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6298، م: 2370
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6298، م: 2370
حدیث نمبر: 8282 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بصَدَقَةً، فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، ثم َقَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِق، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، ثُمَّ قَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْرَجَ الصَّدَقَةَ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِي، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، عَلَى سَارِقٍ، وَعَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ، قَالَ: فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ، فَلَعَلَّهَا يَعْنِي أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ، وَأَمَّا السَّارِقُ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَغْنِيَ بِهِ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات صدقہ دوں گا چنانچہ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور انجانے میں ایک زانیہ عورت کے ہاتھ میں دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک زانیہ عورت کو خیرات ملی وہ شخص کہنے لگا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا چنانچہ دوسری رات کو پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک چور کو خیرات کا مال ملا اس شخص نے کہا کہ میں آج پھر صدقہ دوں گا چنانچہ (تیسری رات کو) وہ صدقہ کا مال لے کر پھر نکلا اور انجانے میں ایک دولت مند کو دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ ملا وہ شخص کہنے لگا کہ الہٰی تیرا شکر ہے کہ چور کو زانیہ کو اور دولت مند شخص کو (میرا صدقہ کا مال دلوایا ہاتف کے ذریعہ) اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تو نے جو چور کو صدقہ دیا تو اس کی وجہ سے شاید وہ چوری سے دست کش ہوجائے اور زانیہ کو جو تو نے صدقہ دیا تو ممکن ہے اس کی وجہ سے وہ زنا کاری چھوڑ دے باقی دولت مند بھی ممکن ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو مال اس کو عطا فرمایا ہے اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1421، م: 1022
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1421، م: 1022
حدیث نمبر: 8283 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَاد ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَاد ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، فَإِنَّهُ مِنْهُ خُلِقَ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھاجائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2955
الحكم: إسناده صحيح، م: 2955
حدیث نمبر: 8284 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَث رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِي صلى الله عليه و آله وسلم: " مَا ينَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ، فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، فَقَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ، فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا"، ثُمَّ قَالَ" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا کسی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ ابن جمیل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا نہیں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن جمیل سے یہی چیز تو ناراض کرتی ہے کہ وہ پہلے تنگدست تھے پھر اللہ نے انہیں مال و دولت عطا فرمائی (اور اب وہ زکوٰۃ ادا نہیں کر رہے) باقی رہے خالد تو تم ان پر ظلم کرتے ہو کیونکہ انہوں نے تو اپنی زرہیں بھی اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھی ہیں اور باقی رہے عباس رضی اللہ عنہ تو وہ میرے ذمے ہیں پھر فرمایا کیا یہ بات تمہارے علم میں نہیں کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبے میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1468، م: 983
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1468، م: 983
حدیث نمبر: 8285 مسند احمد
دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8285]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، وأنظر ما قبله
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 8286 مسند احمد
أَبُو عَامِر ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ يَعْنِي مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِيَدِهِ رَايَتَان رَايَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيْطَانٍ، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، اتَّبَعَهُ الْمَلَكُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسْخِطُ اللَّهَ، اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب بھی کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوسرا شیطان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر وہ اللہ کی رضا والے عمل کے لئے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے پیچھے راونہ ہوجاتا ہے اور وہ گھر لوٹنے تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہوتا ہے اور اگر وہ اللہ کی ناراضگی والے عمل کے لئے نکلتا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے روانہ ہوجاتا ہے اور وہ گھر واپس آنے تک شیطان کے جھنڈے تلے رہتا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8286]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8287 مسند احمد
أَبُو عَامِر ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: " لَعَنَ َرسولُ اللَّهِ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8287]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8288 مسند احمد
أَبُو عَامِر ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم، قَالَ: " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا، حَتَّى تُقَادَ الشَّاةُ الْجَمَّاءُ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2582
الحكم: إسناده صحيح، م: 2582
حدیث نمبر: 8289 مسند احمد
أَبُو عَامِر ، زُهَيْرٌ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا مؤمن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2956
الحكم: إسناده صحيح، م: 2956
حدیث نمبر: 8290 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِير ، ابْنِ يَعْقُوبَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِير ، عَنِ ابْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ الْمُفَرِّدُون؟ قَالَ" الَّذِينَ يُهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مفردون سبقت لے گئے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ مفردون کون لوگ ہوتے ہیں؟ فرمایا جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2676
الحكم: إسناده صحيح، م: 2676
حدیث نمبر: 8291 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ" ، قال عبد الله بن أحمد: وَفِي كِتَابِ أَبِي: وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَا أَدْرِي حَدَّثَنَا بِهِ أَمْ لَا!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے (میرے والد صاحب کی کتاب میں یہ بھی تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ تھا اب مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ہم سے یہ بیان کیا تھا یا نہیں)؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8291]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2612
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2612
حدیث نمبر: 8292 مسند احمد
َأَبُو عَامِرٍ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْيَمَامِيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنا َأَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْيَمَامِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا يَمَامِيُّ، لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِأَخِيهِ وَصَاحِبِهِ إِذَا غَضِبَ، قَالَ: فَلَا تَقُلْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ، كَانَ أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدًا فِي الْعِبَادَةِ، وَكَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلَى نَفْسِهِ، فَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى ذَنْبٍ، فَيَقُولُ: يَا هَذَا، أَقْصِرْ، فَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! قَالَ: إِلَى أَنْ رَآهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ، فَقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ، أَقْصِرْ، قَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قَالَ: أَحَدُهُمَا، قَالَ: فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، وَاجْتَمَعَا عنده، فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَكُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي خَازِنًا، اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، لَتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ضمضم بن جوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے یمامی کسی آدمی کے متعلق یہ ہرگز نہ کہنا کہ واللہ تیری بخشش کبھی نہیں ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ تو ہم میں سے ہر شخص غصہ کے وقت اپنے بھائی اور ساتھی سے کہہ دیتا ہے؟ فرمایا لیکن تم پھر بھی نہ کہنا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار تھا اور دوسرا بہت بدکار وگناہگار تھا عبادت گذار نے گناہگار سے یہ کہہ دیا کہ واللہ تیری کبھی بخشش نہ ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان دونوں کے پاس ملک الموت کو بھیجا اور اس نے دونوں کی روح قبض کرلی اور وہ دونوں اللہ کے حضور اکٹھے ہوئے اللہ نے گناہگار سے فرمایا کہ تو میرے رحم و کرم سے جا اور جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا کیا تو میرے فیصلوں کو جانتا تھا؟ کیا تو میرے قبضے میں موجود ہوگیا تھا؟ اسے جہنم میں لے جاؤ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اس نے صرف ایک کلمہ ایسا بولا جس نے اس کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8292]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ومتنه غريب، تفرد به عكرمة، وقد روى أحاديث غرائب
الحكم: إسناده حسن ومتنه غريب، تفرد به عكرمة، وقد روى أحاديث غرائب
حدیث نمبر: 8293 مسند احمد
أَبُو عَاَمِرٍ ، أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاَمِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول: " إِنْ طَالَتْ بكْ مُدَّةٌ، أَوْشَكَ أَنْ تَرَوْا قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ، فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8293]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 2857
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 2857
حدیث نمبر: 8294 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ عُرِضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطاء فرما دیں تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8294]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبدالملك فلم نتبين من هو
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبدالملك فلم نتبين من هو
حدیث نمبر: 8295 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمَاءِ" . قَالَ: أَنْبِئْنِي بِأَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمْ الطَّعَامَ، وَصِلْ الْأَرْحَامَ، وَصَلِّ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ" ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے کہ اگر میں اسے تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ طعام کھلاؤ صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8296 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْء..." فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8297 مسند احمد
أَبُو عَامِر ، أَبُو مَوْدُودٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ أَوْ تَنَخَّمَ، أَوْ تَنَخَّعَ، فَلْيَحْفِرْ فِيهِ وَلْيُبْعِدْ، فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَفِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر ناک صاف کرنا یا تھوکنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ دور چلا جائے اور اسے دفن کر دے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8297]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 416، م: 550
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 8298 مسند احمد
أَبُو عَامِر ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا مال ناحق اس سے چھیننے کی کوشش کی جائے اور وہ اس کی حفاطت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8298]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 140
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 140