بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 170 از 194
حدیث نمبر: 10500 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ" , وَقَالَ:" أَرَأَيْتَكُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ , فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ" , قَالَ:" وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ بِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے تم یہی دیکھ لو کہ اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے جس سے وہ جھکاتا اور اٹھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10500]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4684، م: 993
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4684، م: 993
حدیث نمبر: 10501 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , حَتَّى مَاتَتْ فِي رِبَاطِهَا هَزْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کے وجہ سے داخل ہوگئی، جسے اس نے باندھ دیا تھا، خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی یہاں تک کہ وہ رسی میں بندھے بندھے مرگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10501]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3318، م: 2243 وله إسنادان عن ابن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعنه
الحكم: حديث صحيح، خ: 3318، م: 2243 وله إسنادان عن ابن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 10502 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ , فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10502]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3618، م: 2918
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3618، م: 2918
حدیث نمبر: 10503 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ لَهُ ثَوْبَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شخص نے پکار کر پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10503]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 365، م: 515
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 365، م: 515
حدیث نمبر: 10504 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ , خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10504]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 648، م: 649
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10505 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ , وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10505]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10506 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ , فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10506]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10507 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , وَمَسْجِدِي , وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10507]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1189، م: 1397
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1189، م: 1397
حدیث نمبر: 10508 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ , وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص انصار سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے نفرت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10508]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10509 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا الْهِجْرَةُ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَتَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3779، م: 76
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3779، م: 76
حدیث نمبر: 10510 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْمُزَفَّتِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ، وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزفت، مقیر، نقیر، دباء اور حنتم کی ممانعت کی ہے، نیز فرمایا ہے ہر نشہ آو رچیز حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1993
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1993
حدیث نمبر: 10511 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10511]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1426
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1426
حدیث نمبر: 10512 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کا تعلق جنت سے ہے اور فحش کلامی جفاء کا حصہ ہے اور جفاء کا تعلق جہنم سے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10512]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10513 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَقُولُ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10513]
حکم دارالسلام
حديث متواتر، وهذا إسناد حسن، خ: 110، م:3
الحكم: حديث متواتر، وهذا إسناد حسن، خ: 110، م:3
حدیث نمبر: 10514 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ حُبِّ الْحَيَاةِ، وَحُبِّ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10514]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6420، م: 1046
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 10515 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10515]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355، م: 1710
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10516 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے ایک دوسرے سے بغض، حسد اور دھوکہ سے اجتناب کرو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10516]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10517 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ , وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فُتِلَتْ فِي يَدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاکیزگی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10517]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523
حدیث نمبر: 10518 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10518]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 10519 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ , قَالَ: أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے ہوئے ہر رفع و خفض میں تکبیر کہتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز کے اعتبار سے تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10519]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 785، م: 392
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 785، م: 392