بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 155 از 194
حدیث نمبر: 10200 مسند احمد
وَكِيعٌ ، دَاوُدُ الزَّعَافِرِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الزَّعَافِرِيُّ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الشَّفَاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " مقام محمود " کی تفسیر میں فرمایا اس سے مراد شفاعت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10200]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10201 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ"، قَالَ رَجُلٌ: إِنَّهَا لَكَافِيَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا حَرًّا فَحَرًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ آگ " جسے بنی آدم جلاتے ہیں " جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بخدا! یہ ایک جزء بھی کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ اس سے ٢٩ درجے زیادہ تیز ہے اور ان میں سے ہر درجہ اس کی حرارت کی مانند ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
حدیث نمبر: 10202 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10202]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10203 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِي فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
الحكم: إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
حدیث نمبر: 10204 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، قََالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَوْقَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ مِمَّ تَتَوَضَّأُ؟ قََالَ: مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے اوپر دیکھا تو وہ وضو کررہے تھے میں نے پوچھا کہ کس چیز سے وضو کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئے چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 352
الحكم: إسناده صحيح، م: 352
حدیث نمبر: 10205 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الشَّهِيدُ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ: سُلْطَانٌ مُتَسَلِّطٌ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین گروہوں میں " شہید " وہ عبد مملوک جو اپنے رب کی عبادت بھی خوب کرے اور اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے وہ عفیف آدمی جو زیادہ عیال دار ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی حفاظت کرے " شامل تھے اور جو تین گروہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوں گے ان میں حکمران جو زبردستی قوم پر مسلط ہوجائے شامل ہے نیز وہ مالدار آدمی جو مال کا حق ادانہ کرے اور وہ فقیر جو فخر کرتا پھرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10205]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عامر العقيلي، وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عامر العقيلي، وأبيه
حدیث نمبر: 10206 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرے وہ ملعون ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10206]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد فيه الحارث روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد فيه الحارث روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 10207 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , قََالَ: قََالَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ : عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10207]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 10208 مسند احمد
قََالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَبَطَتْ امْرَأَةٌ هِرًّا أَوْ هِرَّةً، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، فَأُدْخِلَتْ النَّارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10209 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَمْعَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ الْمَكِّيَّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَمْعَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ الْمَكِّيَّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10209]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1245، م: 951، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 1245، م: 951، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
حدیث نمبر: 10210 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَمْعَةُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ، لَمْ يَدْخُلْ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے نابالغ فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10210]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1251، م: 2632، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1251، م: 2632، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 10211 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ بعد والوں کا ذکر فرمایا یا تین مرتبہ) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2534
الحكم: إسناده صحيح، م: 2534
حدیث نمبر: 10212 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ أَوْ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ . قَالَ: " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ، إِنْ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِلَّا تَرَكَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کسی کھانے میں عیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرمالیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2568، م: 2064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2568، م: 2064
حدیث نمبر: 10213 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجاناعورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10213]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10214 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا، فَعَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ فِيهِ هَذَا، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا، فَعَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ فِيهِ هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف دو آدمیوں پر ہی حسد کیا جاسکتا تھا ایک تو وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت عطاء فرما رکھی ہو اور وہ دن رات اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو دوسرے آدمی کو پتہ چلے تو وہ کہے کہ کاش! مجھے بھی اس شخص کی طرح دولت نصیب ہوجائے اور میں بھی اسی کی طرح عمل کرنے لگوں اور دوسرا وہ آدمی جسم اللہ نے مال و دولت عطاء فرما رکھا ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا رہتا ہو دوسرے آدمی کو پتہ چلے تو وہ کہے کہ کاش! مجھے بھی اس شخص کی طرح دولت نصیب ہوجائے اور میں بھی اسی کی طرح عمل کرنے لگوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10214]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5026
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5026
حدیث نمبر: 10215 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10215]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، أنظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 10216 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6810، م: 57
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6810، م: 57
حدیث نمبر: 10217 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ جُعِلَ لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ مِرْمَاتَانِ حَسَنَتَانِ، أَوْ عَرْقٌ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ، لَأَتَوْهَا أَجْمَعُونَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا أَوْ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ کھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں میرے ساتھ (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے میرا دل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز باجماعت شرکت نہیں کرتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10217]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
الحكم: إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10218 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ حَسَنَةٍ" . يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِلَّا الصَّوْمَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" . " وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ . " وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانے کو ترک کرتا ہے روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10219 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَقَاطَعُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2563
الحكم: إسناده صحيح، م: 2563