بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 95 از 194
حدیث نمبر: 9000 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، مَنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَرْتَقِيَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے اس منبر پر بنو امیہ کے ظالموں میں سے ایک ظالم قابض ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9000]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9001 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَثَابِتٌ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حَمَّادٌ: وَثَابِتٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9001]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 38، م: 760، وللحديث هنا إسنادان: الأول حسن، والثاني مرسل ضعيف
الحكم: حديث صحيح، خ: 38، م: 760، وللحديث هنا إسنادان: الأول حسن، والثاني مرسل ضعيف
حدیث نمبر: 9002 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ" وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 9003 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458
حدیث نمبر: 9004 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 9005 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خوان رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9006 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 9007 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، وَعَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَغُلُّ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ حِينَ يَنْتَهِبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ" ، وَقَالَ عَطَاءٌ 63:" وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ"، قَالَ بَهْزٌ: فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: إِنَّهُ يُنْتَزَعُ مِنْهُ الْإِيمَانُ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ قَتَادَةُ: وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ:" نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص مال غنیمت میں خیانت کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص ڈاکہ ڈالتا ہے وہ مومن نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة عطاء، وأما الحسن البصري فلم یسمع من أبي هريرة، خ: 2475، م: 57
الحكم: إسناده صحيح من جهة عطاء، وأما الحسن البصري فلم یسمع من أبي هريرة، خ: 2475، م: 57
حدیث نمبر: 9008 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللَّهُ رَجُلًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا اور جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کرلے اللہ اس کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے رفعتیں ہی عطاء کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9008]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2588
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2588
حدیث نمبر: 9009 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَاللَّفْظِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَاللَّفْظِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ بَهَتَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ! غیبت کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9009]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
حدیث نمبر: 9010 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ"، قَالُوا: قَصُرَتْ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھولے سے ظہر کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے دو رکعتیں مزید ملائیں اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 9011 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ، وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 9012 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْكَعْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 9013 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ وہ واپس آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 9014 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، أَبِي الْمُطَوِّسِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ، فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ الدَّهْرَ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے اس سے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کے بدلے میں قبول نہیں کئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9014]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة المطوّس وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة المطوّس وأبيه
حدیث نمبر: 9015 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، أَبِي عَلْقَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، وَقَالَ: أَبُو عَوَانَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي، وَالْأَمِيرُ مِجَنٌّ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَكُمْ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امیر کی حیثیت ڈھال کی سی ہوتی ہے لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 734، م: 414
الحكم: إسناده صحيح، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 9016 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَتَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ" ، فَقَالَ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّك تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا كَانَ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْقُ فِي الْأَسْوَاقِ، مَا كَانَ يُهِمُّنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا أَوْ لُقْمَةً يَلْقُمُنِيهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا یہ حدیث سن کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ابوہریرہ! سوچ سمجھ کر حدیث بیان کرو کیونکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بہت کثرت کے ساتھ احادیث نقل کرتے ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کردی پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوعبدالرحمن اللہ کی قسم مجھے بازاروں میں معاملات کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اعراض نہیں کرنے دیتا تھا میرا تو مقصد یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی بات مجھے سمجھا دیں یا کوئی لقمہ مجھے کھلا دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 9017 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدِ بْنِ خُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدِ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت اور ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے نیز کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9017]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9018 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عِمْرَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ، فَقَالَ: " امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ، وَأَطْعِمْ الْمِسْكِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ (اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو) تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیم کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9018]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، سقط رجل مبهم بين أبي عمران وبين أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، سقط رجل مبهم بين أبي عمران وبين أبي هريرة
حدیث نمبر: 9019 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضيِنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9019]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1611
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1611