بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 9009
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 9009
حدیث نمبر: 9009 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَاللَّفْظِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَاللَّفْظِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ بَهَتَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ! غیبت کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9009]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
← پچھلی حدیث (9008) باب پر واپس اگلی حدیث (9010) →