بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 58 از 194
حدیث نمبر: 8259 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ لَنَا: وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ولَا يَرَانِي إِلَا أَحَبَّنِي، قُلْت: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة؟ قَالََ: إِنَّ أُمِّي كَانَتْ امْرَأَةً مُشْرِكَة، وَإِنِّي كُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الَّأْسْلام، وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإسْلام، وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيّ، وَإِنِّي دَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ". فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ، وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رِجْلٍ يَعْنِي وَقْعَهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَة، كَمَا أَنْتَ، ثُمَّ فَتَحَتْ الْبَابَ وَقَدْ لَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ، فَقَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَكَ، وَقَدْ هَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبُهُمْ إِلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا"، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ولَا يَرَانِي، أَوْ يَرَى أُمِّي إِلّا وَهُوَ يُحِبُّنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ اللہ جس مومن کو پیدا کرتا ہے اور وہ میرے متعلق سنتا ہے یا مجھے دیکھتا ہے تو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ فرمایا دراصل میری والدہ مشرک عورت تھیں میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری میں روتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں آج میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو آپ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ اپنی والدہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کی بشارت دوں جب میں گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہ اندر سے بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز آئی اور پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی والدہ نے اندر سے کہا کہ ابوہریرہ تھوڑی دیر رکے رہوتھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو وہ اپنی قمیض پہن چکی تھیں اور جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں انی اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یہ سنتے ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ خوشی کے آنسو لئے حاضر ہوا جیسے پہلے غم کے مارے رو رہا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مبارک ہو اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت نصیب فرما دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مومن بندوں کے دل میں میری اور میری والدہ کی محبت پیدا فرما دے اور ان کی محبت ان دونوں کے دلوں میں ڈال دے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں کے دل میں اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کی محبت پیدا فرما اور ان کی محبت ان کے دلوں میں پیدا فرما اس کے بعد اللہ نے جو مومن بھی پیدا کیا اور وہ میرے بارے سنتا یا مجھے دیکھتا ہے یا میری والدہ کو دیکھتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8259]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2491
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2491
حدیث نمبر: 8260 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ ، حَيْوَةُ ، وابن لهيعة ، أَبُو اْْلَأسْوَدِ يَتِيمُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وابن لهيعة ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو اْْلَأسْوَدِ يَتِيمُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَة هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْف؟ فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ : نَعَمْ، فَقَالَ: مَتَى؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعَصْرِ، وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ رَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، ثُمَّ سَجَدَ، وَسَجَدَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَةَ الْعَدُوّ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى، وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَهُ، ثُمَّ كَانَ التَّسْلِيمُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! مروان نے پوچھا کب؟ انہوں نے فرمایا غزوہ نجد کے سال اور وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عصر کے لئے کھڑے ہوئے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور دوسرا دشمن کے مد مقابل جس کی پشت قبلہ کی طرف تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی اور سب لوگوں نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک تھے یا دشمن سے قتال کر رہے تھے۔ تکبیر کہی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکوع کیا پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا پھر سجدہ کیا تو پیچھے والے گروہ نے بھی سجدہ کیا دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوگیا یہ لوگ دشمن سے جا کر لڑنے لگے اور دشمن کے مد مقابل جو گروہ لڑ رہا تھا وہ یہاں آگیا انہوں نے سب سے پہلے رکوع سجدہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے رہے جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رکوع سجدہ کیا پھر دشمن کا مد مقابل گروہ بھی آگیا اور اس نے پہلے رکوع سجدہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر مقتدی بیٹھے رہے پھر سلام پھیر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا تو سب نے اکٹھے ہی سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بھی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی بھی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8260]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8261 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَيْوَةُ ، أَبُو هَانِئٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْغِفَارِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْغِفَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُول: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتْبَعُ الْحَرِيرَ مِنَ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ریشمی کپڑوں کا پیچھا کرتے تھے اور انہیں اتار دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8261]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، خ: 6419
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، خ: 6419
حدیث نمبر: 8262 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8262]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8263 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، أَبِي ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انسان میں سب سے بدترین چیز بےصبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہونا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8264 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلاَ يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے سامنے خوشبو پیش کی جائے اسے وہ رد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کا بوجھ ہلکا اور مہک عمدہ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2253
الحكم: إسناده صحيح، م: 2253
حدیث نمبر: 8265 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ لَهِيعَة ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزْ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، قَال: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزْ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُذْكَر، َعنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا، وَحَمَلَ فِي قَبْرِهَا، وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ، آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الَأجْرِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ شریک ہو اسے کندھا دے قبر میں مٹی ڈالے اور دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8265]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن هرمز، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر فى خ: 1325 و م: 945
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن هرمز، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر فى خ: 1325 و م: 945
حدیث نمبر: 8266 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرِو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ ، أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرِو الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّار، وَمَنْ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ، فَقَدْ خَانَه، وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی اور جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8266]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمرو، أما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر، خ: 110، م: 3
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمرو، أما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 8267 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، سَعِيدٌ ، أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلانِيُ ، أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلانِيُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب آخر زمانے میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد نے ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ان سے دور رہنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4830، م: 2554
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4830، م: 2554
حدیث نمبر: 8268 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، الأَْعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأَْعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " إِذَا سَمِعْتُمْ أَصْوَاتَ الدِّيَكَة، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، فَاسْأَلُوا اللَّهَ وَارْغَبُوا إِلَيْهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم (رات کے وقت) مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ کے فضل کا سوال کرو اور جب (رات کے وقت) گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
حدیث نمبر: 8269 مسند احمد
شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، الأْعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأْعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم....، فذكر معناه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8270 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، سَعِيدٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو ہم پر تیر اندازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8270]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وفي هذا الإسناد ضعف من جهة يحيى، فهو لين الحديث
الحكم: حديث حسن، وفي هذا الإسناد ضعف من جهة يحيى، فهو لين الحديث
حدیث نمبر: 8271 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَه , وَيُشَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ، وَإِنْ دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ، وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) چھینکے تو اس کا جواب دے (٣) دعوت دے تو قبول کرے (٤) بیمار ہو تو عیادت کرے (٥) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے (٦) پیٹھ پیچھے اس کی خیر خواہی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8271]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1240، م: 2162، فى هذا الإسناد ضعف، عبدالله فيه لين
الحكم: حديث صحيح، خ: 1240، م: 2162، فى هذا الإسناد ضعف، عبدالله فيه لين
حدیث نمبر: 8272 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ، فقَالَ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ، وَتَدْعُوَ بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، قلَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ، وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَن، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلاَحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ، وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ، وَرِضْوَانًا" , قَالَ أَبِي: وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ:" يَتْبَعُهُ فَلاَحٌ وَرَحْمَةٌ مِنْكَ، وَعَافِيَةٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ، وَرِضْوَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو جو سلمان الخیر کے نام سے مشہور تھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نبی تمہیں چند کلمات کا تحفہ دینا چاہتے ہیں جن کے ذریعے تم رحمان سے سوال کرسکو اس کی طرف اپنی رغبت ظاہر کرسکو اور رات دن ان کلمات کے ذریعے اسے پکارا کرو چنانچہ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ میں تجھ سے ایمان کی درستگی کی درخواست کرتا ہوں ایمان کے ساتھ حسن اخلاق اور ایسی کامیابی جس میں دارین کی فلاح آجائے چاہتا ہوں اور آپ سے آپ کی رحمت عافیت مغفرت اور رضامندی کا طلبگار ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8272]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالله، فيه ضعف، ثم هو منقطع، ابن حجيرة ليست له رواية عن أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالله، فيه ضعف، ثم هو منقطع، ابن حجيرة ليست له رواية عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 8273 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الَأعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الَأعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلا يَقْرَبَنَّ مُصلََّانَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس گنجائش ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8273]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالله ابن عياش ضعيف يعتبر به، وقد اضطرب فيه أيضاً
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالله ابن عياش ضعيف يعتبر به، وقد اضطرب فيه أيضاً
حدیث نمبر: 8274 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزَالُ لِهَذَا الأْمْرِ أَوْ عَلَى هَذَا الَأمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ، ولا يَضُرُّهُمْ خِلاَفُ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8274]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8275 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، أَبُو خَيْرَةَ ، مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ أَبُو خَيْرَةَ: لا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآْخِرِ، مِنْ ذُكُورِ أُمَّتِي، فَلا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَر، وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ إِنَاثِ أُمَّتِي، فَلا تَدْخُلْ الْحَمَّامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے مردوں میں سے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند کے بغیر حمام میں نہ جایا کرے اور میری امت کی عورتوں میں سے جو خاتون اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں بالکل نہ جایا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8275]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو خيرة لا يعرف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو خيرة لا يعرف
حدیث نمبر: 8276 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّد ، ٍوَابْنُ جَعْفَر ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّد ، ٍوَابْنُ جَعْفَر حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أنه قال: " أَنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، ثَلَاثِينَ آيَةً، شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِي: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ سورة الملك آية 1" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ایسی ہے جس نے ایک آدمی کے حق میں سفارش کی حتٰی کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ سورت ملک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8276]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 8277 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: تَفَرَّجَ النَّاسُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ: أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ وَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُعَرِّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَال: تَعَلَّمْتُ فِيكَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، فَقَال: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ: هُوَ عَالِمٌ، فَقَدْ قِيلَ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ، فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَّادٌ، فَقَدْ قِيلَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سلمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس درس ختم ہوئی اور لوگ چھٹ گئے تو ناتل شامی نام کے ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت! ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا وہ تین قسم کے لوگ ہوں گے ایک تو وہ آدمی جو شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنے انعامات گنوائے گا وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ پھر تو نے کیا عمل سر انجام دیا؟ وہ عرض کرے گا کہ میں نے آپ کی راہ میں جہاد کیا حتی کہ میں شہید ہوگیا اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے اس لئے قتال کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو وہ کہا جاچکا اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ دوسرا وہ آدمی جس نے علم سیکھا اور سکھایا ہوگا اور قرآن پڑھ رکھا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اپنے انعامات شمار کروائے گا اور وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ تو نے کیا عمل سر انجام دیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے علم حاصل کیا اور تیری رضاء کے لئے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضاء کے لئے قرآن پڑھا اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے علم اس لئے حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے سو وہ کہا جا چکا اور تو نے قرآن اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو وہ کہا جا چکا اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تیسرا وہ آدمی ہوگا جس پر اللہ نے کشادگی فرمائی اور اسے ہر قسم کا مال عطاء فرمایا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اپنے انعامات شمار کروائے گا اور وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ پھر تو نے ان میں کیا عمل سر انجام دیا؟ وہ عرض کرے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ تجھے بڑا سخی کہا جائے سو وہ کہا جا چکا۔ اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1905
الحكم: إسناده صحيح، م: 1905
حدیث نمبر: 8278 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل ہم ان شاء اللہ فتح ہونے کی صورت میں خیف بن کنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش کے لوگوں نے کفر پر ایک دوسرے کے ساتھ قسمیں کھائی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4284، م: 1314
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4284، م: 1314