بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 166 از 194
حدیث نمبر: 10420 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُهُ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10420]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10421 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي يَحْيَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10421]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2064
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2064
حدیث نمبر: 10422 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحًا ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: قََالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ , أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْءَمَةِ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَعَدَ الْقَوْمُ فِي الْمَجْلِسِ، ثُمَّ قَامُوا وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، كَانَتْ عَلَيْهِمْ فِيهِ حَسْرَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں اور یوں ہی اٹھ کھڑے ہوں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10422]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10423 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا مِن بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمْ عَلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا وہ چیزیں ذخیرہ ہیں مگر اللہ نے تمہیں ان پر مطلع نہیں کیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " کوئی نفس نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں مخفی رکھی گئی ہیں " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 10424 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا وَقَبْلَهُ يَوْمٌ، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ پہلے یا بعد کا ایک روزہ بھی ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1985، م: 1144
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1985، م: 1144
حدیث نمبر: 10425 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ , وَيَعْلَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّهُ لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّه، وَلَا أَنْتَ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صراط مستقیم کے قریب رہو اور راہ راست پر رہو! کیونکہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10426 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10426]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10427 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ , وَيَعْلَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ، وَقَالَ يَعْلَى: تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ" ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10427]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
حدیث نمبر: 10428 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 10429 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ، فَانْتَهُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10430 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ، أَوْ تُرَى لَهُ، جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب جو وہ خود دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھے اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
حدیث نمبر: 10431 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى أَمْرٍ، إِنْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ"، قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ:" أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 54
الحكم: إسناده صحيح، م: 54
حدیث نمبر: 10432 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ، فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 10433 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْوِصَالِ"، قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ:" إِنِّي لَيْسَ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي، يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي، اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
حدیث نمبر: 10434 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 67
الحكم: إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 10435 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) برا بھلا کہا ہو یا لعنت کی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و رحمت بنادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 10436 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , وَيَعْلَى ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبْدٌ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: فَتَايَ، وَلَا يَقُلْ: رَبِّي، فَإِنَّ رَبَّكُمْ اللَّهُ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی کیونکہ تم سب بندے ہو بلکہ یوں کہے میرا جوان اور تم میں سے کوئی شخص اپنے آقا کے متعلق یہ نہ کہے کہ میرا رب کیونکہ تم سب کا رب اللہ ہے بلکہ میرا سردار میرا آقا کہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 10437 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَحْتَطِبَ مِنْهُ، فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں سے سوال کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10437]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1480، م: 1042
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1480، م: 1042
حدیث نمبر: 10438 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنَا الدَّهْرُ، الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي لِي، أُجَدِّدُهَا وَأُبْلِيهَا، وَآتِي بِمُلُوكٍ بَعْدَ مُلُوكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہو کیونکہ اللہ فرماتا ہے حالانکہ زمانہ پیدا کرنے والا تو میں ہوں دن رات میرے ہاتھ میں ہیں اور میں ہی دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور میں ہی یکے بعد دیگرے بادشاہوں کو لاتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10438]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6181، م: 2246
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 10439 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي، قَالَ: وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنِ الْحَصَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے منع فرمایا ہے نیز دھوکے کی تجارت اور کنکریاں مار کر بیچنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1416، 1513
الحكم: إسناده صحيح، م: 1416، 1513