بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 61 از 194
حدیث نمبر: 8319 مسند احمد
الْأَسْوَدُ ، كَامِلٌ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ ، أَبَا صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَامِلٌ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، مُؤَذِّنًا كَانَ يُؤَذِّنُ لَهُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8319]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8320 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، أَبَا صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَمَنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8320]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8321 مسند احمد
الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، كَامِلٌ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَغَارُ؟ قَالَ: " وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَغَارُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ غَيْرَتِهِ نَهَى عَنِ الْفَوَاحِشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا آپ بھی غیرت کھاتے ہیں؟ فرمایا واللہ میں سب سے زیادہ غیرت کھاتا ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ باغیرت ہے اور اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے کاموں سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8321]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5220، م: 2760، وهذا إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
الحكم: حديث صحيح، خ: 5220، م: 2760، وهذا إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8322 مسند احمد
الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، كَامِلٌ ، أَبُو صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: ثَنَا كَامِلٌ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِير للكُعَ" ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ:" حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ"، وقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ:" لِلَكِيعِ ابْنِ لَكِيعٍ"، وقَالَ أَسْوَدُ: يَعْنِي الْمُتَّهَمَ ابْنَ الْمُتَّهَمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک فناء نہیں ہوگی جب تک کہ زمام حکومت کمینہ ابن کمینہ کے ہاتھ میں نہ آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8322]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الجهالة أبي صالح
الحكم: إسناده ضعيف الجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8323 مسند احمد
الْأَسْوَدُ ، كَامِلٌ ، أَبُو صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الْأَرْذَلُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" ، قَالَ كَامِلٌ: بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی ذلیل ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8323]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أبي صالح
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8324 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ مُوسَى، قَالَ: " ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيَمُ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں مسلمانوں کے بچوں کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8324]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8325 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي سِنَانٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ عَادَهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: طِبْتَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8325]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبي سنان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8326 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، النُّعْمَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجَهَرَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ حُذَافَةَ، " لَا تُسْمِعْنِي وَأَسْمِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس میں اونچی آواز سے قرأت کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابن حذافہ! مجھے نہ سناؤ اپنے پروردگار کو سناؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8326]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف النعمان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 8327 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، النُّعْمَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّه عز وجلَّّّّّّّّّ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَهُ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے باہر نکلے اور بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ سے دعاء کرتے رہے اور اپنا چہرہ قبلے کی جانب پھیرلیا ہاتھ بلند کر لئے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر پلٹ لی اور دائیں کندھے پر اور بائیں کو نے کو دائیں کندھے پر رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8327]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النعمان ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النعمان ضعيف
حدیث نمبر: 8328 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبو سلمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبو سلمة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے ہم حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے فرمایا تھا کہ پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ اللہ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے عرض کیا کیوں نہیں لیکن میں اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3372، م: 151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3372، م: 151
حدیث نمبر: 8329 مسند احمد
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں حضرت لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے اور اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں آنے والے کی پیشکش کو قبول کرلیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3387، م: 151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8330 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ مِنْهُ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ وَهْبٌ يَقْبِضُهَا، وَيَبْسُطُهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کر کے جہنم سے نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8330]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 8331 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8332 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، رُزَيْقٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلْمَى ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلْمَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالسَّمَاءِ"، يَعْنِي: ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز میں اکثر سورت بروج اور سورت طارق کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8332]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو المهزم ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، أبو المهزم ضعيف
حدیث نمبر: 8333 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ ، أَبَا الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّماَوَاتِ فِي الْعِشَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز میں لفظ سماء سے شروع ہونے والی سورتوں کی تلاوت کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8333]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8334 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، ورضَي َلُكْم َثَلًاثا: رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ، وَكَرِهَ لَكُمْ: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1715
الحكم: إسناده صحيح، م: 1715
حدیث نمبر: 8335 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَأَنْ يَمْنَعَ الرَّجُلُ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً فِي حَائِطِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پینے سے اور پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے روکنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8335]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5627
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5627
حدیث نمبر: 8336 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، خَالِدٌ ، شَهْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ قَيْسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ، لِيَشْرَبْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُم" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے نفس کا خود محاسب ہے اور ہر قوم ان برتنوں میں نبیذ بنا سکتی ہے جو انہیں مناسب معلوم ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8336]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شھر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شھر
حدیث نمبر: 8337 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2113
الحكم: إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8338 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے (ہشام اور عمرو) مومن ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8338]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن