بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 115 از 194
حدیث نمبر: 9400 مسند احمد
وَقَالَ: " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا جو شخص اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے عقد موالات کرتا ہے اس پر اللہ اور سارے فرشتوں کی لعنت ہے، اللہ اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9400]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1508
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1508
حدیث نمبر: 9401 مسند احمد
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْقَارِئُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، فَوَافَقَ قَوْلُهُ ذَلِكَ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی اللہم ربنا و لک الحمد کہے اور اس کا یہ جملہ آسمان والوں کے اللہم ربنالک الحمد کے موافق ہوجائے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9401]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 796 ، م : 409
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 796 ، م : 409
حدیث نمبر: 9402 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، يَعْقُوبُ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوصالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے ہوئے جب بھی سر کو جھکاتے یا بلند کرتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9402]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 795 ، م : 392
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 795 ، م : 392
حدیث نمبر: 9403 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، يَعْقُوبُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ:" شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَا بَيْن الْمِرْفَقَيْنِ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ جب وہ کشادہ ہوتے ہیں تو سجدہ کرنے میں مشقت ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھٹنوں سے مدد لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9403]
حکم دارالسلام
إسنادہ قوي
الحكم: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9404 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ ، رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک سانپ اور بچھو کو مارنے سے زیادہ محبوب خبیث جانور کو مارنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9404]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لجھالة أبي ثفال
الحكم: إسنادہ ضعیف لجھالة أبي ثفال
حدیث نمبر: 9405 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ، يُخَرِّبُ بَيْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی خانہ کعبہ کو ویران کر ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9405]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1591 ، م : 2909
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1591 ، م : 2909
حدیث نمبر: 9406 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، ثَوْرٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا قَرَأَ: وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3، قَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً , أَوْ مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، وَقَالَ: " لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا، لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورت جمعہ نازل ہوئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے٫ آخرین منہم لما یلحقوا بہم (کچھ دوسرے بھی ہیں جو ان کے ساتھ آ کر اب تک نہیں ملے) کی تلاوت فرمائی تو کسی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا جواب نہ دیا حتی کہ سائل نے دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا، اس وقت ہمارے درمیان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ پر رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے پر ہوا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9406]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4898 ، م : 2546
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4898 ، م : 2546
حدیث نمبر: 9407 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، ثَوْرٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا، أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ يَعْنِي تَلَفَهَا، أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال (قرض پر) اداء کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ وہ قرض اس سے اداء کروا دیتا ہے اور جو ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے، اللہ اسے ضائع کروا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9407]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2387
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2387
حدیث نمبر: 9408 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے، جس جگہ ختنے کئے اس کا نام " قدوم " تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9408]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 3356 ، م : 2370
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 3356 ، م : 2370
حدیث نمبر: 9409 مسند احمد
وَقَالَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی آئے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9409]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 854
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 854
حدیث نمبر: 9410 مسند احمد
قَالَ:" وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9410]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 7404 م : 2685
الحكم: حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 7404 م : 2685
حدیث نمبر: 9411 مسند احمد
وَقَالَ: " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ , وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ , وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے، فخروتکبر اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں میں ہوتا ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9411]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3499، م : 52
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3499، م : 52
حدیث نمبر: 9412 مسند احمد
وَقَالَ: " تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ، حَتَّى يَقَعَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا تم دیکھو گے کہ جو آدمی اسلام قبول کرنے میں سب سے زیادہ نفرت کا اظہار کرتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد تمہیں وہی سب سے بہتر آدمی نظر آئے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9412]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3496 ، م : 2526
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3496 ، م : 2526
حدیث نمبر: 9413 مسند احمد
وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرما، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9413]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 1006 ، م : 675
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 1006 ، م : 675
حدیث نمبر: 9414 مسند احمد
وَقَالَ: " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامتی عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9414]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1006 ، م : 2515
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1006 ، م : 2515
حدیث نمبر: 9415 مسند احمد
وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ وبکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9415]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6637
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6637
حدیث نمبر: 9416 مسند احمد
وَقَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَا مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9416]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1966 ، م : 1103
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1966 ، م : 1103
حدیث نمبر: 9417 مسند احمد
وَقَالَ: " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ لَا يَقْطَعُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9417]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4881 ، م : 2826
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4881 ، م : 2826
حدیث نمبر: 9418 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا وضو نہ ہو اس کی نماز نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ کا نام لے کر وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9418]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لجھالة یعقوب ، و والدہ سلمة
الحكم: إسنادہ ضعیف لجھالة یعقوب ، و والدہ سلمة
حدیث نمبر: 9419 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہماری اس مسجد میں صرف خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو، وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جو دوسرے کا سامان ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9419]
حکم دارالسلام
حدیث ضعیف ، اختلف في إسنادہ علی المقبري ، وحمید مختلف فیه
الحكم: حدیث ضعیف ، اختلف في إسنادہ علی المقبري ، وحمید مختلف فیه