بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 176 از 194
حدیث نمبر: 10620 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي السَّلِيلِ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي السَّلِيلِ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ , قََالَ: تُوُفِّيَ ابْنَانِ ليِ , فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ تُطَيِّبُ بِنَفْسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ , " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ , يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ أَبَوَيْهِ , فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا , فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے (جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بچہ اپنے والدین سے ملے گا تو ان کے کپڑے کا کنارہ پکڑ لے گا جیسے میں نے تمہارے کپڑے کا کنارہ پکڑا ہوا ہے اور اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوگا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10620]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2635
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2635
حدیث نمبر: 10621 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، عَوْفٌ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , قََالَ عَوْفٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ , قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ , فَنَزَعَتْ خُفَّهَا , فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا , فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ , فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے سخت گرمی کے ایک دن میں ایک کتے کو ایک کنوئیں کے چکر کاٹتے ہوئے دیکھا جس کی زبان پیاس کی وجہ سے لٹک چکی تھی اس نے موزے کو اتار کر اس میں پانی بھر کر اسے پلادیا اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10621]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3351، م: 2245
الحكم: حديث صحيح، خ: 3351، م: 2245
حدیث نمبر: 10622 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ , وَقَالَ: يُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , قَالَ: فَيَقُولُونَ: حَتَّى يَجِيءَ أَبَوَانَا" , قَالَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَيَقُولُونَ: مِثْلَ ذَلِكَ , فَيُقَالُ لَهُمْ:" ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان میاں بیوی جن کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں اللہ ان بچوں اور ان کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا ابتداء ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہیں گے کہ جب تک ہمارے والدین نہیں آتے ہم جنت میں نہیں جائیں گے یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوں گے بالآخر ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
حدیث نمبر: 10623 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ , وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ , وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ , وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ تُفْضِي بِفَرْجِكَ إِلَى السَّمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کی نماز، دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز سے منع فرمایا ہے اور لباس یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10623]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م:1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م:1511
حدیث نمبر: 10624 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، زِيَادٌ ، ثَابِتًا ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قََالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ , أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6233، م: 2160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6233، م: 2160
حدیث نمبر: 10625 مسند احمد
رَوْحٌ ، حُبَيْبٌ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُبَيْبٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ" , وَقَالَ بِبَغْدَادَ:" وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ، وَالصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ" , وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ: وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10625]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6231، م: 2160، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 6231، م: 2160، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10626 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، بْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قََالَ: حَدَّثَ بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّهَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا مِنَ السَّامِ" , قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْمَوْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10626]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10627 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَمِّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ , أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُكْنَى بِكُنْيَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کنیت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10627]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن، وعمه
الحكم: حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن، وعمه
حدیث نمبر: 10628 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ , فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10629 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ , فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو جب تک کھانا مکمل نہ کرلے اسے نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10629]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10630 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10631 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ , وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ایک خوشی آخرت میں ہوگی جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10632 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبُو رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ لَيَحْفِرُونَ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ: الَّذِي عَلَيْهِمْ ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ كَأَشَدِّ مَا كَانَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ، وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ إِلَى النَّاسِ، حَفَرُوا، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَيَسْتَثْنِي، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، فَيُنَشِّفُونَ الْمِيَاهَ، وَيَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ، فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ وَعَلَيْهَا كَهَيْئَةِ الدَّمِ، فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ، وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ لَتَسْمَنُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاجوج ماجوج روزانہ سد سکندری میں سوراخ کرتے ہیں اور جب اتنا سوراخ کرلیتے ہیں کہ جس سے سورج کی شعاعیں دیکھ سکیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ اب واپس لوٹ چلو کل تم اسے گرا دوگے لیکن وہ اگلے دن واپس آتے ہیں تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک وہ اپنی مدت کو نہیں پہنچ جاتے اور جب اللہ کا ارادہ ہوگا کہ اب انہیں لوگوں پر مسلط کردیں تو وہ اس میں سوراخ کریں گے اور جب اتنا سوراخ کرچکیں گے کہ جس سے سورج کی شعاعیں دیکھ سکیں تو ان کا سردار کہے گا کہ اب واپس چلو کل تم ان شاء اللہ اسے گرادوگے چنانچہ جب وہ اگلے دن واپس آئیں گے تو وہ دیوار اسی حالت پر ہوگی جس پر وہ اسے چھوڑ کر گئے ہوں گے اور وہ اسے گرا کر لوگوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ وہ پانی کے چشموں سے پانی چوس کر ختم کردیں گے لوگ ان کے خوف سے اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے جو ان پر خون آلود کرکے لوٹا دئیے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی چھاگئے اس کے بعد اللہ ان کی گردنوں میں گدی کے پاس ایک کیڑا مسلط کردیں گے جو ان سب کی موت کا سبب بن جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے ان کے گوشت اور خون سے زمین کے کیڑے مکوڑے اور جانور خوب سیراب ہو کر انتہائی صحت مند ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10632]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
حدیث نمبر: 10633 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ" , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ , وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10633]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
حدیث نمبر: 10634 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10634]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
حدیث نمبر: 10635 مسند احمد
رَوْحٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ , فَلَا يَرْفُثْ , وَلَا يَجْهَلْ , وَلَا يُؤْذِي أَحَدًا , فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ أَوْ آذَاهُ , فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 10636 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ , فَيُدْخِلُهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ" , قِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ؟ قَالَ:" يَكُونُ أَحَدُهُمَا كَافِرًا , فَيَقْتُلُ الْآخَرَ , ثُمَّ يُسْلِمُ فَيَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگیا پھر اللہ نے دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے بھی اسلام کی طرف ہدایت دے دی اور وہ بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرکے شہید ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10636]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2826، م: 1890
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2826، م: 1890
حدیث نمبر: 10637 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا زِيَادٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ , وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ , وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي , وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10637]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7137، م: 1835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7137، م: 1835
حدیث نمبر: 10638 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، هَمَّامٍ ، قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ قَتَادَةَ , وَعَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , الْمَعْنَى , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ , وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: فَرَاشٌ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُهُ، فَقَالَ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ , أَوْ قَالَ: مِنْ فَضْلِكَ" , قَالَ: عَبْدُ الصَّمَدِ: قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ فَضْلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 279
حدیث نمبر: 10639 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ، قَالُوا: تُرَاهَا جُدَرِيَّ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجو رہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10639]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو منقطع بين شهر و بين أبى هريرة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو منقطع بين شهر و بين أبى هريرة