بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 42 از 194
حدیث نمبر: 7939 مسند احمد
يَزِيدُ ، الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7940 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: " اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اہل بدر کو آسمان پر سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو بھی عمل کرتے رہو میں نے تمہیں معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7940]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7941 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَانْتَهَى إِلَى الْحَرَّةِ، فَإِذَا هُوَ فِي أَذْنَابِ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ، قَدْ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَبِعَ الْمَاءَ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ، بِالِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا، فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی جنگل میں چلا جا رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی جو بادل سے آرہی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ اس آواز پر وہ بادل ایک جانب چلا گیا اور اس کا پانی ایک پتھریلی جگہ پر جا کر برس گیا وہ آدمی اس جگہ پہنچا تو وہاں کچھ نالیوں کے سرے دکھائی دیئے ان میں سے ایک نالی ایسی تھی جس میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا وہ آدمی پانی کے پیچھے چلتا گیا چلتے چلتے وہ ایک آدمی کے پاس پہنچا جو اپنے باغ میں کھڑا پانی آگے پیچھے لگا رہا تھا اس نے اس سے کہا کہ اے بندہ اللہ تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے اپنا نام بتایا یہ وہی نام تھا جو اس نے بادل سے آنے والی آواز میں سنا تھا وہ آدمی کہنے لگا کہ اے اللہ کے بندے تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں نے ایک بادل میں سے ایک آواز سنی تھی جس کا یہ پانی ہے اور اس میں تمہارا نام لے کر کہا گیا تھا کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو اب تم بتاؤ کہ تم اس میں کون سا ایسا عمل کرتے ہو (جس کی یہ برکت ہے؟) اس نے کہا کہ اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو بات یہ ہے کہ میں اس باغ کی پیداوار پر غور کرتا ہوں پھر ایک تہائی حصہ صدقہ کرتا ہوں ایک تہائی خود اور اپنے اہل خانہ کو کھلاتا ہوں اور ایک تہائی اسی میں واپس لگا دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2984.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2984.
حدیث نمبر: 7942 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً يَوْمَ الْقِيَامَةَ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2699، وهذا إسناد قد أعل بالانقطاع بين محمد وبين أبي صالح.
الحكم: حديث صحيح، م: 2699، وهذا إسناد قد أعل بالانقطاع بين محمد وبين أبي صالح.
حدیث نمبر: 7943 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُه فَكَتَمَهُ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةَ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7943]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7944 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، فَمَاتَ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ، يَغْضَبُ لِعَصَبَتِهِ، وَيُقَاتِلُ لِعَصَبَتِهِ، وَيَنْصُرُ عَصَبَتَهُ، فَقُتِلَ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي، يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَى لِمُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بےمقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بد سب کو مارے مومن سے حیاء نہ کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1848.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1848.
حدیث نمبر: 7945 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَةَ تُضَاعَفُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ. قَالَ: وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ ذَلِكَ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال عبد الله بن أحمد: كَذَا قَالَ أَبِي، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لَيُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمۃ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ فرماتے ہیں ایک نیکی پر بڑھا چڑھا کر دس لاکھ نیکیوں کا ثواب بھی مل سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ بخدا! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ ایک نیکی کو دوگنا کرتے کرتے بیس لاکھ نیکیوں کے برابر بنا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7945]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي.
حدیث نمبر: 7946 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7946]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7947 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَام نَجَّارًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2379.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2379.
حدیث نمبر: 7948 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ: عَمِلْتُ عَمَلًا ذَنْبًا، فَاغْفِرْهُ. فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: " عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي". ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ قال: أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ. فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي". ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ. فَقَالَ:" عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي". ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ قال: أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ. قال:" عَبْدي عَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ: أُشهِدُكم أني قد غَفَرْتُ لِعَبْدي، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا کہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور حسب سابق اعتراف کرتا ہے اور اللہ حسب سابق جواب دیتا ہے چوتھی مرتبہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں گواہ رہو میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا اب وہ جو چاہے کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758.
حدیث نمبر: 7949 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، وَحُسَيْنٌ ، عَوْفٌ ، أَبِي قَحْذَمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي قَحْذَمٍ ، قَالَ: " وُجِدَ فِي زَمَنِ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ: هَذَا نَبَتَ فِي زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقحذم کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے دور حکومت میں کہیں سے ایک تھیلی ملی جس میں کھجور کی گٹھلی جیسا ایک دانہ تھا اور اس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگا تھا جب عدل و انصاف کا معاملہ کیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7949]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لا يثبت، وليس هو بحديث، أبو قحذم مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، لا يثبت، وليس هو بحديث، أبو قحذم مجهول.
حدیث نمبر: 7950 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ الْأَزْرَقُ ، عَوْفٌ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ الْأَزْرَقُ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7950]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر.
حدیث نمبر: 7951 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَوْفٌ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں خواتین کی اکثریت دکھائی دی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں فقراء کی اکثریت دکھائی دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7951]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر.
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر.
حدیث نمبر: 7952 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ، حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ ذَاكَ الرَّيْنُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کا دل پھر سے صاف روشن ہوجاتا ہے ورنہ جتنے گناہ بڑھتے جاتے ہیں اتنے ہی سیاہ دھبے بڑھتے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے دل پر وہ زنگ چھا جاتا ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے۔ کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7952]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7953 مسند احمد
صَفْوَانُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ، إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسِّ الْقَرْصَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شہید کو شہادت کی وجہ سے اتنی بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7953]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7954 مسند احمد
صَفْوَانُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي صَفْوَانُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدِّينُ النَّصِيحَةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ؟ قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، ولِرَسولِه، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کس کے لئے؟ فرمایا اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے اس کے پیغمبر کے لئے اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7954]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح، وأما الإسناد فقد وقع فيه الاختلاف.
الحكم: متن الحديث صحيح، وأما الإسناد فقد وقع فيه الاختلاف.
حدیث نمبر: 7955 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عن عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ حَتَّى يَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ، كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ، أَظَلَّتَا أَوْ أَضَلَّتَا، فَصِيلَيْهِمَا بِبَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ، بِيَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں شہید کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہونے پاتا کہ اس کے پاس اس کی دو جنتی بیویاں سبقت کر کے پہنچ جاتی ہیں اور وہ اس ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہوئی آتی ہیں جنہوں نے زمین کے کسی حصے میں اپنے بچوں کو سایہ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہو ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوڑا ہوتا ہے جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7955]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة هلال ولضعف شهر.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة هلال ولضعف شهر.
حدیث نمبر: 7956 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7956]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شتير مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، شتير مجهول.
حدیث نمبر: 7957 مسند احمد
صَفْوَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " أَنَا وَمَنْ مَعِي"، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي عَلَى الْأَثَرِ"، قِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَرَفَضَهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے بہتر انسان کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور میرے ساتھی پوچھا گیا اس کے بعد کون لوگ؟ فرمایا جو ہمارے بعد ہوں گے پوچھا گیا اس کے بعد؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7957]
حکم دارالسلام
إسناده جيد.
الحكم: إسناده جيد.
حدیث نمبر: 7958 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا، يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7958]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6478.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6478.