بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 181 از 194
حدیث نمبر: 10720 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10720]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 10721 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سرانجام دیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
حدیث نمبر: 10722 مسند احمد
عُثْمَانُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَقُولُ النَّاسُ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ , فَلَقِيتُ رَجُلًا , فَقُلْتُ: " بِأَيِّ سُورَةٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ , فَقَالَ: لَا أَدْرِي , فَقُلْتُ: أَلَمْ تَشْهَدْهَا؟ قَالَ: بَلَى , قُلْتُ: وَلَكِنِّي أَدْرِي , قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں میں دور نبوت میں ایک آدمی سے ملا اس سے میں نے پوچھا کہ آج رات عشاء کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کون سی سورت پڑھی تھی؟ اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ کیا آپ نماز میں شریک نہیں تھے؟ اس نے کہا کیوں نہیں میں نے کہا کہ میں جانتاہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فلاں سورت پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1223
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1223
حدیث نمبر: 10723 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ خَيْرٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَأَضَلَّ النَّاسَ عَنْهُ , فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ , هُوَ لَنَا , وَلِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَلِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ , إِنَّ فِيهِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا , إِلَّا أَعْطَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ سے بہترین کسی جن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا لوگ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں ہفتہ یہودیوں کا ہے اور اتوار عیسائیوں کا ہے۔ اور جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 876، 6400، م: 852، 855
الحكم: إسناده صحيح، خ: 876، 6400، م: 852، 855
حدیث نمبر: 10724 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ , وَيَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ , وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ , وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ" , قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فتنوں کا ظہور، جھوٹ کی کثرت، مارکیٹوں کا قریب ہونا، زمانہ قریب آجانا اور " ہرج " کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10725 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 , قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ , يَا بَنِي هَاشِمٍ , أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ , يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ , أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ , يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ , أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا , غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے " تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایک قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے گروہ قریش! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنوکعب بن لؤی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے پچاؤ اے گروہ بنوعبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنوہاشم! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 10726 مسند احمد
مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، خَالِدٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ خَالِدٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کینت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3539، م:2134
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3539، م:2134
حدیث نمبر: 10727 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، سَيَّارٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ ، قََالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ , فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ , فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ " امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ , يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: كَذَا , قَالَ أَبِي:، فَقَالَتْ: هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتْ الْمَرْأَةُ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ , كَانَتْ كَافِرَةً , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ , فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ ہی نے بیان کی ہے کہ ایک عورت کو صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے باندھ کر رکھا تھا اور نہ خود کھلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ عورت کون تھی؟ وہ عورت اس کام کے ساتھ ساتھ کافرہ تھی ایک مسلمان اللہ کی نگاہوں میں اس سے بہت معزز ہے کہ اللہ اسے صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے اس لئے جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیا کریں تو خوب غور و فکر کرلیا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10727]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2243
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10728 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَصِينٍ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , سَمِعَ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا , فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 110، م: 3
الحكم: إسناده صحيح، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 10729 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ , فَاجْلِدُوهُ , فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ" , فَقَالَ: فِي الرَّابِعَةِ" فَاقْتُلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو، سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10729]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10730 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبَا نَضْرَةَ ، شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ , قَالَ: وَتَلَا: وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سورة الحج آية 47" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری شمار کے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10730]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شتير فى عداد المجهولين
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شتير فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 10731 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، وَهَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَهَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَرْفَعُهُ , قََالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا , لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ , أَوْ حَتَّى تَرْجِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تاآنکہ وہ واپس آجائے) یا صبح ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 10732 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، الْمُثَنَّى ، قَتَادَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10732]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 10733 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ , سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ" , قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10733]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد فيه أبو زياد، لا يعرف
الحكم: حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد فيه أبو زياد، لا يعرف
حدیث نمبر: 10734 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: " إِنَّهَا لَيْلَةُ سَابِعَةٍ أَوْ تَاسِعَةٍ وَعِشْرِينَ , إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ یہ ستائیسویں یا انتیسویں شب ہوتی ہے اور اس رات میں زمین پر آنے والے فرشتوں کی تعداد کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10734]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 10735 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، حَرْبٌ ، وَأَبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , وَأَبَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنَي أَبُو سَلَمَةَ , أَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغَارُ , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ , وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م:2761
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م:2761
حدیث نمبر: 10736 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , قََالَ: سَمِعْتُ كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ" , قُلْتُ: بَلَى , قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" , قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الاباللہ " اس پر اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10736]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10737 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ , أَنَّ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَرْسَلَ مَعَهُ إِلَى مَرْوَانَ بِكِسْوَةٍ , فَقَال مَرْوَانُ: انْظُرُوا مَنْ تَرَوْنَ بِالْبَابِ؟ قََالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ , فَأَذِنَ لَهُ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ وُلُّوا هَذَا الْأَمْرَ أَنَّهُمْ خَرُّوا مِنَ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا شَيْئًا" . قََالَ: زِدْنَا يَا قََالَ: زِدْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَجْرِي هَلَاكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن شریک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ضحاک بن قیس نے ان کے ہاتھ کچھ کپڑے مروان کو بھجوائے مروان نے کہا دیکھو دروازے پر کون ہے لوگوں نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی، اس نے مزید فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10737]
حکم دارالسلام
حديث حسن، يزيد لم نقف له على ترجمة
الحكم: حديث حسن، يزيد لم نقف له على ترجمة
حدیث نمبر: 10738 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَلْجٍ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَلْجٍ , قََالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ، فَلْيُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے اسے چاہئے کہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضاء کے لئے محبت کیا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10738]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10739 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَدْعُو هَكَذَا بِأُصْبُعَيْهِ يُشِيرُ، فَقَالَ: " أَحِّدْ أَحِّدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ دعاء کرتے ہوئے دو انگلیوں سے اشارہ کررہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا ایک انگلی سے اشارہ کرو ایک انگلی سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10739]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن