بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 7 از 194
حدیث نمبر: 7239 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا وَالي، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، وَمَنْ وُقِيَ شَرَّهُمَا، فَقَدْ وُقِيَ، وَهُوَ مَعَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا گروہ (اس بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں) کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جو ان دونوں کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا اور جو گروہ اس پر غالب آگیا اس کا شمار انہی میں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وعلقه البخاري بإثر الحديث: 7198.
الحكم: إسناده صحيح، وعلقه البخاري بإثر الحديث: 7198.
حدیث نمبر: 7240 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَهُوَ بِمِنًى:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ". يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ، وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ، حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم النحر سے اگلے دن (گیارہ ذی الحجہ کو) جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منٰی ہی میں تھے فرمایا: کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاو کریں گے مراد وادی محصب تھی دراصل واقعہ یہ ہے کہ قریش اور بنوکنانہ نے بنوہاشم اور بنوعبدالمطلب کے خلاف باہم یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ قریش اور بنوکنانہ ان سے باہمی مناکحت اور خریدو فروخت نہیں کریں گے تاآنکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1590، م: 1314.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1590، م: 1314.
حدیث نمبر: 7241 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، قُرَّةُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ، أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ارشادباری تعالیٰ ہے مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ بندہ ہے جو افطار کا وقت ہوجانے کے بعد روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7241]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قرة.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قرة.
حدیث نمبر: 7242 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، الْمَعْنَى، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَفْدِيَ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو شَاهٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم:" اكْتُبُوا لأبى شاهٍ"، فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا، وَبُيُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ". فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: وَمَا قَوْلُهُ" اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ"؟ وَمَا يَكْتُبُوا لَهُ؟ قَالَ: يَقُولُ: اكْتُبُوا لَهُ خُطْبَتَهُ الَّتِي سَمِعَهَا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَيْسَ يُرْوَى فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ شَيْءٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ، قَالَ:" اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ" مَا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُطْبَتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر مکہ مکرمہ کو فتح کروا دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: اللہ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کو دور کیا اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر تسلط عطاء فرمایا: میرے لئے بھی اس میں قتال دن کے کچھ حصے میں حلال کیا گیا ہے اس کے بعد یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اس کے شکار کو خوفزدہ نہ کیا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز اٹھانا کسی کے لئے حلال نہیں الاّ یہ کہ وہ اس کا اعلان کر دے اور جس شخص کا کوئی عزیز مارا گیا ہو اسے دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے جو وہ اپنے حق میں بہتر سمجھے یا تو فدیہ لے لے یا پھر قاتل کو قصاصا قتل کر دے۔ _x000D_ یہ خطبہ سن کر یمن کا ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا نام ابوشاہ تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے یہ خطبہ لکھ کر عنایت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ یہ خطبہ لکھ کر ابو شاہ کو دے دو اسی اثناء میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اذخرنامی گھاس کو مستثنٰی کردیجئے کیونکہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے مستثنٰی کر دیا۔ _x000D_ راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ابوشاہ کو لکھ کر دے دو سے کیا مراد ہے؟ وہ اسے کیا لکھ کردیتے؟ انہوں نے فرمایا: کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ابوشاہ کو وہ خطبہ لکھ کر دے دو جو انہوں نے سنا ہے۔ نیز امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ فرماتے ہیں کہ کتابت حدیث کی اجازت سے متعلق اس سے زیادہ کوئی صحیح حدیث مروی نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو وہ خطبہ لکھنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7242]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 2443، م: 1355.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 2443، م: 1355.
حدیث نمبر: 7243 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا، وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَاتٍ، إِذَا عَمِلْتَ بِهِنَّ أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ، وَلَا يَلْحَقُكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" تُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ مال و دولت والے تو اجر وثواب کے ڈھیر لے گئے جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور ان کے پاس زائد مال بھی ہے جسے وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ ہم انہیں صدقہ کر سکیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتادوں کہ اگر تم ان پر عمل کرنے لگو تو اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پالو اور کوئی تمہارے مرتبے کو نہ پہنچ سکے؟ الاّ یہ کہ کوئی شخص تمہاری طرح ہی اس پر عمل کرنا شروع کر دے انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرو اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 843، م: 595.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 843، م: 595.
حدیث نمبر: 7244 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ، فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 780، م: 410.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 780، م: 410.
حدیث نمبر: 7245 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ:" يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ، وَالنَّهَارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم مجھے ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ پیدا کرنے والا تو میں ہوں تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں اور میں ہی دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
حدیث نمبر: 7246 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615.
حدیث نمبر: 7247 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھالیا ہے اللہ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 537، م: 617.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 537، م: 617.
حدیث نمبر: 7248 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، أَوْ يَتَنَاجَشُوا، أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا، لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، أَوْ إِنَائِهَا، وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّمَا رِزْقُهَا عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت کرے یا بیع میں دھوکہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413.
حدیث نمبر: 7249 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى". قَالَ سُفْيَانُ:" وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ، سَوَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صرف تین مسجدوں کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
حدیث نمبر: 7250 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قِيلَ لَهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فقَالَ: نَعَمْ:" إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ، فَلَا تَأْتُوهَا، وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ، فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ، فَاقْضُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7250]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602.
حدیث نمبر: 7251 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ؟ قَالَ:" أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ! يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَثِيَابُهُ عَلَى الْمِشْجَبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ اس حدیث کو بیان کر کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کیا تم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا تھا اور اس کے کپڑے لکڑی کے ڈنڈے پر ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 365، م: 515.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515.
حدیث نمبر: 7252 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ، وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَلَكِنْ امْشُوا إِلَيْهَا، وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ، فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ، فَأَتِمُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602.
حدیث نمبر: 7253 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ، فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7254 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، وأبى سَلَمَة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وأبى سَلَمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7254]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710.
حدیث نمبر: 7255 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا"، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تو نے وسعت والے اللہ کو پابند کر دیا تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا لوگ جلدی سے اس کی طرف دوڑے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے اس کے پیشاب کی جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7255]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 220.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 220.
حدیث نمبر: 7256 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا فَرَعَةَ، وَلَا عَتِيرَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1974.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1974.
حدیث نمبر: 7257 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ لَهُ مَرَّةً رَفَعْتَهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ مَرَّةً: يَبْلُغُ بِهِ::" يَقُولُونَ: الْكَرْمُ، وَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگ انگور کو کرم کہتے ہیں حالانکہ اصل کرم تو مومن کا دل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6183، م: 2247.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6183، م: 2247.
حدیث نمبر: 7258 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ، يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو صحیفے اور کھاتے لپیٹ دئیے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.