بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 67 از 194
حدیث نمبر: 8439 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَرَقَ عَبْدُ أَحَدِكُمْ فَلْيَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا غلام چوری کرے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8439]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
الحكم: إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
حدیث نمبر: 8440 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَخَمْسِينَ خَرَجْتُ مَعَ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بغیر قبضہ غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8440]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 1528
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 1528
حدیث نمبر: 8441 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 8442 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ، وَإِذَا أَرَدْتُمْ التَّعْرِيسَ فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيق" ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أخبرنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو (اور انہیں اطمینان سے چرنے دیا کرو) اور اگر خشک زمین میں سفر کرو تو تیز رفتاری سے اس علاقے سے گذر جایا کرو اور جب رات کو پڑاؤ کرنا چاہو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ کیا کرو [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8442]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1926
الحكم: إسناده صحيح، م: 1926
حدیث نمبر: 8443 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ إِنْ يَسْمَعْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8443]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 780
الحكم: إسناده صحيح، م: 780
حدیث نمبر: 8444 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سَالِمٌ أَبُو جُمَيْعٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ كَانَ يُقِيمُ حُلَّةَ حَرِيرٍ، فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا إِذَا جَاءَكَ وُفُودُ النَّاسِ. فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! عطارد تمیمی کھڑا ریشمی حلے بیچ رہا ہے اگر آپ ایک جوڑا خرید لیتے تو جب وفود آپ کے پاس آتے تو آپ بھی اسے پہن لیتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا میں وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8444]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا سند حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا سند حسن
حدیث نمبر: 8445 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، بَعْدَمَا يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكافرين" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعاء اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8445]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 797، م: 676
الحكم: إسناده صحيح، خ: 797، م: 676
حدیث نمبر: 8446 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، وَخَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8446]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2947
الحكم: إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 8447 مسند احمد
مَنْصُورٌ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِلصَّدِيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صدیق یا دوست کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8447]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2597
الحكم: إسناده صحيح، م: 2597
حدیث نمبر: 8448 مسند احمد
مَنْصُورٌ ، سُلَيْمَانُ يعنى ابن بلَال ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يعنى ابن بلَال ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: سَعِّرْ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَخفْضُ ويَرْفَعُ، وَلَكِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ چیزوں کے نرخ مقرر کردیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہنگے اور ارزاں اللہ ہی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے اس حال میں ملوں کہ میری طرف کسی کا کوئی ظلم نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8449 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " َلَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُور" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیرشرعی حرکتیں کرنے والی) خواتین پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8449]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8450 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُحُدًا هَذَا يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم سے محبت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8450]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8451 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ، فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ" يَعْنِي بِنِصْفِ أُوقِيَّةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا غلام چوری کرے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8451]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
الحكم: إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
حدیث نمبر: 8452 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُور" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کاتبین کی غلطی سے احادیث کی سند اور متن میں گڑبڑ ہوگئی ہے ہمارے پاس دستیاب نسخے میں اس نمبر پر کوئی حدیث درج نہیں ہے بلکہ صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8452]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8453 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوزَ وَكَرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دجال ستر ہزار آدمیوں کے ساتھ خوز اور کرمان میں ضرور اترے گا ان لوگوں کے چہرے چپٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8453]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل عنعنه ابن إسحاق
الحكم: إسناده ضعيف من أجل عنعنه ابن إسحاق
حدیث نمبر: 8454 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عیدین کے لئے نکلتے تو واپسی پر دوسرے راستے کو اختیار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8454]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناد هذا الحديث قد وقع فيه اضطراب
الحكم: حسن لغيره، وإسناد هذا الحديث قد وقع فيه اضطراب
حدیث نمبر: 8455 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8455]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2566
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2566
حدیث نمبر: 8456 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الشَّيْخَ" قَالَ يُونُسُ: أَظُنُّهُ قَالَ:" يَهْرَمُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: طُولِ الْحَيَاةِ، وَحُبِّ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6420، م: 1046
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 8457 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي طُوَالَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي طُوَالَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ سُرَيْجٌ: فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي رِيحَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسا علم جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہو صرف اس لئے حاصل کرے کہ دنیاوی ساز و سامان حاصل کرسکے گا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8457]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8458 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ، فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ: هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب مختلف ممالک اور شہر فتح ہونے لگیں گے تو لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے کہ آؤ سرسبز و شاداب علاقوں میں چل کر رہتے ہیں حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا اور جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8458]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1378
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1378