بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 47 از 194
حدیث نمبر: 8039 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ، فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ، فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، م: 1914
حدیث نمبر: 8040 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِيرِينَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ: انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا، ثُمَّ اطْحَنُوهُ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟" قَالَ: أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ، قَالَ: فَغُفِرَ لَهُ بِهَا، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا یہاں تک وہ کوئلہ بن جائے پھر اسے خوب باریک کر کے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اسی لمحے وہ بندہ اللہ کے قبضہ میں تھا اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم تجھے اس حرکت پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ حالانکہ اس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8040]
حکم دارالسلام
صحيح، وله إسنادان: الأول متصل صحيح، والثاني ضعيف لارساله وللجهالة، خ: 3481، م: 2756
الحكم: صحيح، وله إسنادان: الأول متصل صحيح، والثاني ضعيف لارساله وللجهالة، خ: 3481، م: 2756
حدیث نمبر: 8041 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8041]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8042 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ: عَمْرٌو، وَهِشَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8042]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8043 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، أَبُو الْمُدِلَّةِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَبُو النَّضْرِ: سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا رَأَيْنَاكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ! قَالَ: " لَوْ تَكُونُونَ أَوْ قَالَ: لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي أَنْتُمْ عَلَيْهَا عِنْدِي، لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهِمْ، وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا، لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ" . قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: " لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبؤُسُ، وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ . ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاواتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ:" وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہم آپ کی زیارت کرتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور ہم اہل آخرت میں سے ہوجاتے ہیں اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگتی ہے اور ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو سونگھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی کیفیت پر رہنے لگو جو تمہیں میرے پاس حاصل ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آنے لگیں اور اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے کر آئے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران روزہ دار تاآنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بد دعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8043]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبو المدلة
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبو المدلة
حدیث نمبر: 8044 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، أَبُو الْمُدِلَّةِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، قُلْتُ لِزُهَيْرٍ: أَهُوَ أَبُو الْمُجَاهِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول: قلنا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8044]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، انظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 8045 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ، فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ، فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ مُنْتَبَذَتَان تُوطَآَنِ، وَمُرْ بِالْكَلْبِ يُخْرَجَ". فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَام تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کو کاٹنے کا حکم دیجئے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے اور گھر سے کتے کو نکالنے کا حکم دے دیجئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ اور فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8045]
حکم دارالسلام
صحيح دون قصة تمثال الرجل، فقد تفرد بها يونس، و ربما وهم فى روايته
الحكم: صحيح دون قصة تمثال الرجل، فقد تفرد بها يونس، و ربما وهم فى روايته
حدیث نمبر: 8046 مسند احمد
قَالَ: " وَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8047 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ، يَقُولُ: " انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل عرفات کو دیکھ کر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں اور گرد و غبار کے ساتھ آئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8047]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8048 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام ادویات کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8048]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8049 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8050 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ:" كُلُوا"، وَلَمْ يَأْكُلْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 8051 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي هَذِهِ الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26، فَقَالُوا: نَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8051]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8052 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَفَّا وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ، لِيَنْتَبِذْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے نفس کا خود محاسب ہے اور ہر قوم ان برتنوں میں نبیذ بنا سکتی ہے جو انہیں مناسب معلوم ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8052]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8053 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں فقر و فاقہ قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کی بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8054 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضْ الْيَوْمَ، يُجْزَ غَدًا، وَمَلَكًا بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آسمان کے ایک دروازے پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کون ہے جو قرض دے اور کل اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے؟ اور دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور روک کر رکھنے والے کا مال جلد ہلاک فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8054]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1442، م: 1010
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1442، م: 1010
حدیث نمبر: 8055 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ، وَمَعَهُ قِرْدٌ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ، شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ، فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ، حَتَّى قَسَمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8055]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات ، لكن الصواب وقفه
الحكم: رجاله ثقات ، لكن الصواب وقفه
حدیث نمبر: 8056 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ هَمَّامٌ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے فجر کی ایک رکعت یہ پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا تو اسے اپنی نماز مکمل کرلینی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8056]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 556، م: 608 ، قتادة لا يعرف له سماع من بشير، والصواب أن بينهما النضر
الحكم: حديث صحيح، خ: 556، م: 608 ، قتادة لا يعرف له سماع من بشير، والصواب أن بينهما النضر
حدیث نمبر: 8057 مسند احمد
بَهْزٌ ، سَلِيمٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 8058 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8058]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، قتادة لا يعرف له سماع من بشير، وذكر النضر بينهما - إن صح - هو الصواب ، فيتصل حينئذ
الحكم: حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، قتادة لا يعرف له سماع من بشير، وذكر النضر بينهما - إن صح - هو الصواب ، فيتصل حينئذ