بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 102 از 194
حدیث نمبر: 9140 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ" ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا سورة البقرة آية 273.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین سوال سے بچنے والا آدمی ہوتا ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کہ وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9140]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 4539، م: 1039
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 4539، م: 1039
حدیث نمبر: 9141 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9141]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6998، م: 523، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6998، م: 523، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 9142 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَبُو مَعْشَرٍ ، أَبِي وَهْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ؟". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟". قَالُوا: بَلَى. قَالَ:" الرَّجُلُ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ؟". قَالُوا: بَلَى. قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ، وَلَا يُعْطِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بہتر آدمی کے بارے نہ بتاؤں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے اللہ کے راستہ میں نکل پڑا ہو اور جہاں ضرورت ہو وہ اس پر سوار ہوجائے کیا میں تمہیں اس کے بعد والے درجے پر فائز آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہو نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بدتر آدمی کے بارے نہ بتاؤں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اللہ کے نام پر کسی سے کچھ مانگے لیکن اسے کچھ نہ ملے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9142]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1889، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
الحكم: حديث صحيح، م: 1889، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 9143 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ، شَفَاعَةً لِأُمَّتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کے شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9143]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7474، م: 198
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7474، م: 198
حدیث نمبر: 9144 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9144]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 437، م: 530
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 9145 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَأَلهَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ، فَلَا يَمْنَعْهُ" ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ؟!، وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی کا پڑوسی اس کے دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہا ہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کرکے) رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9145]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2463، م: 1609
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2463، م: 1609
حدیث نمبر: 9146 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، وَأَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، وَأَبُو الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9146]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9147 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9147]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 934، م: 851
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9148 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبَا عُبَيْدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ أَبَا عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّهُ ليُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری دعاء ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ جلد بازی نہ کی جائے جلد بازی سے مراد یہ ہے کہ آدمی یوں کہنا شروع کردے کہ میں نے اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں وہ قبول ہی نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9148]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6340، م: 2735
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6340، م: 2735
حدیث نمبر: 9149 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُسْلِمِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ" . قَالَ: فَوَافَقَهُ الْقَاسِمُ، عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرما اس قاسم نے ان کی اس بات میں موافقت کی کہ نبی نے دعائے قنوت وتر کے بعد پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9149]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6200، م: 675، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد
الحكم: حديث صحيح، خ: 6200، م: 675، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد
حدیث نمبر: 9150 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ، وَحْدَهُ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9150]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 648، 649
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 648، 649
حدیث نمبر: 9151 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وملائكة َالنَّهَارِ، فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، قَالَ: وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَيَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَار، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي، قَالَ: فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ" . قَالَ سُلَيْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ، إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ:" فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکھٹے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رات رہ چکے ہوتے ہیں وہ فجر کے وقت آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اس طرح عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں تو دن والے فرشتے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے رہ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 555، م: 632
الحكم: إسناده صحيح، خ: 555، م: 632
حدیث نمبر: 9152 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟". قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: " فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤْهُنَّ فِي الصَّلَاةِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْهُنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس تین صحت مند حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی تیس آیتیں نماز میں پڑھتا ہے اس کے لئے وہ تین آیتیں تین حاملہ اونٹنیوں سے بھی بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9152]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحيح، م: 802
الحكم: إسنادہ صحيح، م: 802
حدیث نمبر: 9153 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي، وَإِنَّ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْنَ بَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا اور میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد حرام کے علاوہ دیگر تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں پڑھنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9153]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، 1196، م: 1391 ، 1394
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، 1196، م: 1391 ، 1394
حدیث نمبر: 9154 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قال: حدثني الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصٍ، لَمْ يَزِدْ وَلَمْ يَنْقُصْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9154]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1196، م: 1391، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1196، م: 1391، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 9155 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، مَيْسُورًا ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْسُورًا مَوْلَى قُرَيْشٍ فِي حَلْقَةِ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ مَرَّ بِهِ فَتًى يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَوَكَزَهُ بِحَدِيدَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَبْلُغْكَ مَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک نوجوان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ اپنا ازار کھینچتا ہوا چلا جا رہا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی چھڑی اسے چبھو کر فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین سے کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9155]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5788، م: 2087، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ميسور
الحكم: حديث صحيح، خ: 5788، م: 2087، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ميسور
حدیث نمبر: 9156 مسند احمد
أَبُو الْجَوَّابِ الضَّبِّيُّ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ الضَّبِّيُّ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالْحَدِيثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: " ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے دل میں ایسے وساوس اور خیالات آتے ہیں کہ انہیں زبان پر لانے سے زیادہ مجھے آسمان سے نیچے گر جانا محبوب ہے (میں کیا کروں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9156]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 132
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 132
حدیث نمبر: 9157 مسند احمد
أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عِكْرِمَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی نوکر کو اس کے اہل خانہ کے خلاف بھڑکاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکاتا ہے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9158 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " ثَلَاثٌ فِي الْمُنَافِقِ، وَإِنْ صَلَّى وَإِنْ صَامَ وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 33، م: 59
الحكم: إسناده صحيح، خ: 33، م: 59
حدیث نمبر: 9159 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ كِتَابًا بِيَدِهِ لِنَفْسِهِ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَوَضَعَهُ تَحْتَ عَرْشِهِ , فِيهِ: رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9159]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3194، م: 2751، شريك النخعي- وإن كان فى حفظه شيء- متابع، وقوله: « بيده » زيادة منكرة فى هذا الحديث
الحكم: حديث صحيح، خ: 3194، م: 2751، شريك النخعي- وإن كان فى حفظه شيء- متابع، وقوله: « بيده » زيادة منكرة فى هذا الحديث