بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 66 از 194
حدیث نمبر: 8419 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّة، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَوْ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ" شَكَّ أَبُو عَامِرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستہ میں ہجرت کرے یا اپنے وطن مولود میں ہی بیٹھا رہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم لوگوں کو یہ بات نہ بتادیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جہنیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے جب تم اللہ سے جنت مانگا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ جنت کا مرکز اور سب سے اعلیٰ ترین حصہ ہے اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8419]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد وهم فليح فى حال تحديثه لأبي عامر فى رواية هذا الحديث عن عبدالرحمن عن أبي هريرة، وانظر ما بعده
الحكم: حديث صحيح، وقد وهم فليح فى حال تحديثه لأبي عامر فى رواية هذا الحديث عن عبدالرحمن عن أبي هريرة، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 8420 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَوْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَوْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ , قَالَ: فُلَيْح: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ"، وَقَالَ: أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَال: ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ فَلَمْ يَشُكَّ يَعْنِي فُلَيْحًا، قالَ: عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا هو الصواب فى رواية فلیح عن ھلال، عن عطاء، عن أبي هريرة ، وانظر ما قبله وما بعده
الحكم: حديث صحيح، وهذا هو الصواب فى رواية فلیح عن ھلال، عن عطاء، عن أبي هريرة ، وانظر ما قبله وما بعده
حدیث نمبر: 8421 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَهُ، وَقَالَ:" وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8421]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8422 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمُرِ، وَالْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8422]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6420، م: 1046، وهذا الإسناد فيه فليح، وفيه كلام
الحكم: حديث صحيح، خ: 6420، م: 1046، وهذا الإسناد فيه فليح، وفيه كلام
حدیث نمبر: 8423 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا: ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَزَاوَرُونَ فِيهَا"، قَالَ سُرَيْجٌ:" لَيَتَرَاءَوْنَ فِيهَا كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَب الدََََََََََُرّيَّ، والكَوكبَ الشَّرْقِيَّ، وَالْكَوْكَبَ الْغَرْبِيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ الطَّالِعَ، فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ"، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّه، أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ؟ قَالَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، أَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ" . وَقَالَ سُرَيْج:" وأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اہل جنت ایک دوسرے کو جنت میں اسی طرح دیکھیں جیسے تم لوگ روشن ستارے کو مشرقی اور مغربی ستارے کو مختلف درجات میں کم وبیش دیکھتے ہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہ لوگ انبیاء کرام رضی اللہ عنہ ہوں گے؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8423]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح لكن من حديث أبي سعيد، ولعل فليحا أخطأ، فجعله من حديث أبي هريرة، خ: 3256، م: 2831
الحكم: متن الحديث صحيح لكن من حديث أبي سعيد، ولعل فليحا أخطأ، فجعله من حديث أبي هريرة، خ: 3256، م: 2831
حدیث نمبر: 8424 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ، وَلَا حُزْنٍ، وَلَا غَمٍّ، وَلَا أَذًى، حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2573
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2573
حدیث نمبر: 8425 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَمْرِ بْنِ نَبْهَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهِنَّ وَضَرَّائِهِنَّ وَسَرَّائِهِنَّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُنَّ"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَوْ ثِنْتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَوْ ثِنْتَانِ"، فَقَالَ رَجُلٌ" أَوْ وَاحِدَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَوْ وَاحِدَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی مشکلات تکالیف اور خوشیوں پر صبر شکر کرے اللہ ان بچیوں پر اس کی مہربانی کے سبب اس شخص کو جنت میں اپنے فضل سے داخلہ عطاء فرمائے گا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر ایک بیٹی ہو تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8425]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج وأبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج وأبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا
حدیث نمبر: 8426 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بَلْجٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْشِ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ:" أَنْ تَقُولَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" ، قَالَ أَبُو بَلْجٍ: وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُول: أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ". قَالَ: فَقُلْتُ: لِعَمْرٍو! قَالَ أَبُو بَلْجٍ: قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ وَلَوْلا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ سورة الكهف آية 39.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے میں نے کہا ضرور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ جسے سن کر اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے آپ کو سپرد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8426]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «تحت العرش» وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح دون قوله: «تحت العرش» وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8427 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيعُ الْخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ، وَكَانَ يَشُوبُهُ بِالْمَاءِ، وَكَانَ مَعَهُ فِي السَّفِينَةِ قِرْدٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْكِيسَ وَفِيهِ الدَّنَانِيرُ، قَالَ: فَصَعِدَ الذَّرْوَ يَعْنِي الدَّقَلَ فَفَتَحَ الْكِيسَ، فَجَعَلَ يُلْقِي فِي الْبَحْرِ دِينَارًا وَفِي السَّفِينَةِ دِينَارًا، حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِيهِ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8427]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، والصواب وقفه
الحكم: رجاله ثقات، والصواب وقفه
حدیث نمبر: 8428 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ، وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 440
الحكم: إسناده صحيح، م: 440
حدیث نمبر: 8429 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِيهِ ، لِأَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَة : أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِكُمْ؟ قَالَ:" وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي؟" قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ: نَعَمْ، وَأَوْجَزُ. قَالَ: " وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح آپ کو نماز پڑھایا کرتے تھے؟ (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں اسی کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قیام صرف اتنا ہوتا تھا کہ مؤذن مینار سے نیچے اتر کر صف تک پہنچ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8429]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8430 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، سُلَيْمَانُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَأُذُنَانِ يَسْمَعُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، فَيَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِكُلِّ مَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَالْمُصَوِّرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جہنم سے ایک کھوپڑی برآمد ہوگی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتی ہوگی اور دو کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہوگی اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولتی ہوگی اور وہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے ہر سرکش ظالم پر اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے والوں پر اور تصویر بنانے والوں پر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8431 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، نَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہاری امامت تم ہی میں کا ایک فرد کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3449، م: 155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3449، م: 155
حدیث نمبر: 8432 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ" قَالُوا: وَمَنْ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" جَارٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ" قِيلَ: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ:" شَرُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واللہ وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کے بوائق سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو کسی نے بوائق کا معنی پوچھا تو فرمایا شر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8433 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي أَخْذَ الْأُمَمِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ" فقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ والرُّومُ؟ قَالَ:" وَمَا النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلانہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7319
حدیث نمبر: 8434 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأَدَمُهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا، فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ؟" قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ. قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَصُمْ الْأَيَّامَ الْغُرَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا اس کے ساتھ چٹنی اور سالن بھی تھا اس نے یہ سب چیزیں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو کھانے کا حکم دے دیا اس دیہاتی نے بھی ہاتھ روکے رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو پھر ایام بیض کے روزے رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8435 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2044
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2044
حدیث نمبر: 8436 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانُ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ: " ادْنُوَا فَكُلَا"، قَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ. قَالَ:" ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں مر الظہران نامی جگہ پر کھانا پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئیے کھانا کھائیے دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم روزے سے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے سواری تیار کرو اپنے ساتھیوں کے لئے محنت کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8437 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ، وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قبائل عرب میں سب سے جلدی قبیلہ قریش فنا ہوگا عنقریب ایک عورت جوتی لے کر گذرے گی اور کہے گی کہ یہ ایک قریشی کی جوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8437]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8438 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8438]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526