بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 71 از 194
حدیث نمبر: 8519 مسند احمد
عَفَّانُ ، يعنى أَبَانُ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يعنى أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، وَاللَّهُ يَغَارُ، وَمِنْ غَيْرَةِ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ شَيْئًا حَرَّمَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8519]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5223 ، م : 2761
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5223 ، م : 2761
حدیث نمبر: 8520 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ، فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8520]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1914
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1914
حدیث نمبر: 8521 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَهُوَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8521]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8522 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، مَنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ابْنَ آدَمَ، اعْمَلْ كَأَنَّكَ تُرَى، وَعُدَّ نَفْسَكَ مَعَ الْمَوْتَى، وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم یہ سوچ کر عمل کیا کر کہ تجھے کوئی دیکھ رہا ہے اپنے آپ کو مردوں میں شامل کیا کر اور مظلوم کی بددعا سے بچا کر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8522]
حکم دارالسلام
حدیث قابل للتحسین، و إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة الواسطة بینه و بین أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث قابل للتحسین، و إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة الواسطة بینه و بین أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8523 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا، جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا، جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، جَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكْ الْجُمُعَةَ، إِذَا لَمْ يُدْرِكْ الْخُطْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا فلاں آدمی آیا تو اسے صرف نماز ملی اور جمعہ نہیں ملا یہ اس وقت لکھتے ہیں جبکہ کسی کو خطبہ نہ ملا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8523]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، له علتان : ضعف علي بن زید ، وجھالة أوس ، وقوله : «جاء فلان و الإمام یخطب» ، ھذا مخالف للمشھور ، انظر ، خ : 3211 ، م : 850
الحكم: إسنادہ ضعیف ، له علتان : ضعف علي بن زید ، وجھالة أوس ، وقوله : «جاء فلان و الإمام یخطب» ، ھذا مخالف للمشھور ، انظر ، خ : 3211 ، م : 850
حدیث نمبر: 8524 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ مُرْدًا بِيضًا جِعَادًا، مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، عَلَى خَلْقِ آدَمَ، سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُع" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے جسم بالوں سے خالی ہوں گے وہ نوعمر ہوں گے گورے چٹے رنگ والے ہوں گے گھنگھریالے بال سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے ٣٣ سال کی عمر ہوگی حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ساٹھ گز لمبے اور سات گز چوڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8524]
حکم دارالسلام
حسن بشواھدہ دون قوله : «في سبعة أذرع» ، فقد تفرد بھا علي بن زید ، وھو ضعیف
الحكم: حسن بشواھدہ دون قوله : «في سبعة أذرع» ، فقد تفرد بھا علي بن زید ، وھو ضعیف
حدیث نمبر: 8525 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَيْسٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَيْسٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8525]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 772 ، م : 396
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 772 ، م : 396
حدیث نمبر: 8526 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لِكُلِّ بَنِي آدَمَ حَظٌّ مِنَ الزِّنَا، فَالْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَزِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلَانِ تزْنِيَانِ، وَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي، وَزِنَاهُ الْقُبَلُ، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8526]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 8527 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ! فَقَالَ: " إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گذرا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8527]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8528 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8528]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2113
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2113
حدیث نمبر: 8529 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ" قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا: مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8529]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5673 ، م : 2816
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5673 ، م : 2816
حدیث نمبر: 8530 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ فِي يَدِي سِوَارَيْنِ، فَنَفَخْتُهُمَا فَرُفِعَا فَأَوَّلْتُ أَنَّ أَحَدَهُمَا مُسَيْلِمَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8530]
حکم دارالسلام
صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 4375 ، م : 2274
الحكم: صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 4375 ، م : 2274
حدیث نمبر: 8531 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَََََََّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا بَاتَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سو جائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھو کر نہ سویا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8531]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8532 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی شرمگاہ میں آتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8532]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الحارث
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الحارث
حدیث نمبر: 8533 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8533]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8534 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ أَوْ الْفَرْضِ صَلَاةُ اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعدسب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8534]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1163
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1163
حدیث نمبر: 8535 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، ابْنِ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَة ، خَالِدُ بْنُ يزَيْدٍ ، أَبَا الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّة، خُلُودًا فَلَا مَوْتَ فِيهِ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودًا فَلَا مَوْتَ فِيهِ" ، قَالَ: وَذَكَرَ لِي خَالِدُ بْنُ يزَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ مِثْلَهُ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، إِلَّا أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْهُمَا: أَنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الشَّفَاعَاتِ وَمَنْ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت تم ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی اور اے اہل جہنم تم بھی ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8535]
حکم دارالسلام
صحیح ، وإسنادہ قوي ، خ : 6545
الحكم: صحیح ، وإسنادہ قوي ، خ : 6545
حدیث نمبر: 8536 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي سِنَانٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ فِي الْجَنَّةِ مَنْزِلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا تیرا چلنا بہت اچھا ہوا اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8536]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف أبي سنان
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8537 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ" ، قَالَ: فَلَمَّا أُعْتِقَ أَبُو رَافِعٍ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: كَانَ لِي أَجْرَانِ، فَذَهَبَ أَحَدُهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ابو رافع کو آزاد کیا گیا تو وہ رونے لگے کسی نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجھے دو اجر ملتے تھے اب ان میں سے ایک ختم ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8537]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2549 ، م : 1666
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2549 ، م : 1666
حدیث نمبر: 8538 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَإِذَا عَرَجَتْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَهُمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَجِئْنَاكَ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَإِذَا عَرَجَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَهُمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادٍك، أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَجِئْنَاكَ وَهُمْ يُصَلُّونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکھٹے ہوتے ہیں جب دن کے فرشتے آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے پھر جب رات کے فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھتا ہے کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس سے آئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8538]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 555 ، م : 632
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 555 ، م : 632