أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد " کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8889]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 734، م: 414، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ميسر، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 734، م: 414، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ميسر، لكنه متابع