بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 118 از 194
حدیث نمبر: 9460 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا هَامَ , لَا هَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مردے کی کھوپڑی میں سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9460]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5717 ، م : 2220
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5717 ، م : 2220
حدیث نمبر: 9461 مسند احمد
هَارُونُ ، هَارُونَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٍو ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، سُمَيٍّ ، أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے (سجدے میں) دعاء کثرت سے کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9461]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م :482
الحكم: إسنادہ صحیح ، م :482
حدیث نمبر: 9462 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، تَدْعُو لَهُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے، اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9462]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 477 ، م : 649
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 477 ، م : 649
حدیث نمبر: 9463 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ السَّمَاءِ بَرَكَةً، إِلَّا أَصْبَحَ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ، يُنَزِّلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْغَيْثَ، فَيَقُولُونَ: بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب بھی آسمان سے برکت (بارش) نازل فرماتے ہیں تو بندوں کا ایک گروہ اس کی ناشکری کرنے لگتا ہے، بارش اللہ نازل کرتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9463]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 72
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 72
حدیث نمبر: 9464 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي لَا يَقْدِرَانِ عَلَى شَيْءٍ، فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ , فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ جَائِعًا، قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟، قَالَتْ: نَعَمْ , أَبْشِرْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ. فَاسْتَحَثَّهَا، فَقَالَ: وَيْحَكِ، ابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ. قَالَتْ: نَعَمْ، هُنَيَّةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوَى، قَالَ: وَيْحَكِ، قُومِي فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَأْتِينِي بِهِ فَإِنِّي قَدْ بَلَغْتُ وَجَهِدْتُ. فَقَالَتْ: نَعَمْ، الْآنَ يَنْضَجُ التَّنُّورُ فَلَا تَعْجَلْ. فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا سَاعَةً , وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ لَهَا , قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا: لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلْآنَ جُنُوبَ الْغَنَمِ وَرَحْيَيْهَا تَطْحَنَانِ، فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى , فَنَفَضَتْهَا وَأَخْرَجَتْ مَا فِي تَنُّورِهَا مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحْيَيْهَا وَلَمْ تَنْفُضْهَا لَطَحَنَتْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں دو میاں بیوی تھے انہیں کسی چیز پر دسترس حاصل نہ تھی، وہ آدمی ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا، اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی، وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچ کر اس سے کہنے لگا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا ہاں! خوش ہوجاؤ کہ اللہ کا رزق تمہارے پاس آیا ہے، اس نے اسے چمکار کر کہا کہ اگر تمہارے پاس کچھ ہے تو جلدی سے لے آؤ، اس نے کہا اچھا، بس تھوڑی دیر ہمیں رحمت الٰہی کی امید ہے لیکن جب انتظار کی گھڑیاں مزید لمبی ہوتی گئیں تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کمبخت! جا اگر تیرے پاس کوئی روٹی ہے تو لے آ، بھوک کی وجہ سے میں نڈھال ہوچکا ہوں، اس نے کہا اچھا ابھی تنور لگتا ہے، جلدی نہ کرو۔ جب وہ تھوڑی دیر مزید خاموش رہا اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ اب یہ دوبارہ تقاضا کرنے والا ہے تو اس نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے اٹھ کر تنور کو دیکھنا تو چاہئے (شاید اس میں کچھ ہو) چنانچہ وہ کھڑی ہوئی تو دیکھا کہ تنور بکری کی رانوں سے بھرا پڑا ہے اور اس کی دونوں چکیوں میں آٹا پس رہا ہے وہ چکی کی طرف بڑھی اور آٹا لے کرچھانا اور تنور میں سے بکری کی رانیں نکالیں (اور خوب لطف لے کر سیراب ہوئے) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشادنقل کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، اگر وہ چکیوں میں سے آٹا نکال کر انہیں جھاڑ نہ لیتی تو قیامت تک اس میں سے آٹا نکلتا رہتا اور وہ پیستی رہتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9464]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 9465 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، وَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، وَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ لِلسُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9465]
حکم دارالسلام
حدیث حسن دون قصة الشجرۃ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف شھر
الحكم: حدیث حسن دون قصة الشجرۃ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف شھر
حدیث نمبر: 9466 مسند احمد
فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، فُلَيْحٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا , فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ، وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ، فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ، يَنْحَرُونَهَا؟ , بَلْ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ، فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ. قَالَ:" أَجَلْ"، قَالَ: فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ، فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ , فَجَمَعَهُ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ , وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا، وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی غزوہ میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس اونٹ پر یہ سواری کرتے ہیں اور دشمن کے قریب پہنچتے ہیں کیا یہ اسی کو ذبح کردیں گے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء فرما لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جوت وشہ میں موجود تھیں، منگوا لیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس بچا کھچا کھانے کا سامان لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ سب کے برتن بھر گئے اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9466]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 27 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة فزارۃ
الحكم: حدیث صحیح ، م : 27 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة فزارۃ
حدیث نمبر: 9467 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: لَا لَعَمْرُ اللَّهِ، غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا فِي أَيَّامٍ يَصُومُهُ فِيهَا" . قال: فَجَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: يَا قال: فَجَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ؟ قَالَ: لَا لَعَمْرُ اللَّهِ، غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ وَإِنَّ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالاوبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ ہی لوگوں کو جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں بخدا! اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الاّ یہ کہ وہ اس کے معمول میں آجائے پھر دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9467]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الرجل الحارثي
الحكم: صحیح لغیرہ ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الرجل الحارثي
حدیث نمبر: 9468 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ثُمَّ جَلَسَ لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے لئے مسلسل دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے یا اپنی جگہ سے اٹھ کر نہ جائے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9468]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 477 ، م : 649 ، وھذا إسناد فیه ابن إسحاق مدلس ، لکنه توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 477 ، م : 649 ، وھذا إسناد فیه ابن إسحاق مدلس ، لکنه توبع
حدیث نمبر: 9469 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ عَلَيْهِ بَعْدَهُ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا، بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدارہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آگئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9469]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7393 ، م : 2714
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7393 ، م : 2714
حدیث نمبر: 9470 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا زَنَتْ خَادِمُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا , فَإِنْ عَادَتْ الثَّانِيَةَ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ الثَّالِثَةَ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ الرَّابِعَةَ فَلْيَجْلِدْهَا، وَلْيَبِعْهَا بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ , أَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قسمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9470]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
حدیث نمبر: 9471 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9471]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1876 ، م : 147
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1876 ، م : 147
حدیث نمبر: 9472 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، الْحَجَّاجُ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ الشَّهْرُ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو۔ اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو کیا تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9472]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحجاج بن أرطاۃ مدلس ، وقد عنعن
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحجاج بن أرطاۃ مدلس ، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9473 مسند احمد
غَسَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا غَسَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ شِفَاءٌ لِكُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9473]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
حدیث نمبر: 9474 مسند احمد
غَسَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا غَسَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ الْأَذَانَ، وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ، فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن بصری سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو جب تک کھانا مکمل نہ کرلے اسے نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9474]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن من الطریق الأول ، و إسنادہ الثاني مرسل من جھة الحسن البصري
الحكم: إسنادہ حسن من الطریق الأول ، و إسنادہ الثاني مرسل من جھة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9475 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: تُقَاتِلُهُمْ، وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے جب فتنہ ارتداد پھیلا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان سے کیونکر قتال کرسکتے ہیں جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! میں نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں کروں گا اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنے والوں سے ضرور قتال کروں گا، چنانچہ ہم نے ان کی معیت میں قتال کیا اور بعد میں ہم نے اسی میں خیروبھلائی دیکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9475]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 21
الحكم: حدیث صحیح ، م : 21
حدیث نمبر: 9476 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ؟، فَقَالَ: " مَا جَاءَنِي فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ: مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گدھوں کی زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9476]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2371 ، م : 987
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2371 ، م : 987
حدیث نمبر: 9477 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَنْزِلِهِ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دے کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9477]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3123 ، م : 1876
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3123 ، م : 1876
حدیث نمبر: 9478 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9478]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9479 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " المِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9479]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن