بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 9466
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 9466
حدیث نمبر: 9466 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، فُلَيْحٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا , فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ، وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ، فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ، يَنْحَرُونَهَا؟ , بَلْ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ، فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ. قَالَ:" أَجَلْ"، قَالَ: فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ، فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ , فَجَمَعَهُ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ , وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا، وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی غزوہ میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس اونٹ پر یہ سواری کرتے ہیں اور دشمن کے قریب پہنچتے ہیں کیا یہ اسی کو ذبح کردیں گے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء فرما لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جوت وشہ میں موجود تھیں، منگوا لیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس بچا کھچا کھانے کا سامان لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ سب کے برتن بھر گئے اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9466]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 27 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة فزارۃ
الحكم: حدیث صحیح ، م : 27 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة فزارۃ
← پچھلی حدیث (9465) باب پر واپس اگلی حدیث (9467) →