عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: لَا لَعَمْرُ اللَّهِ، غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا فِي أَيَّامٍ يَصُومُهُ فِيهَا" . قال: فَجَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: يَا قال: فَجَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ؟ قَالَ: لَا لَعَمْرُ اللَّهِ، غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ وَإِنَّ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالاوبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ ہی لوگوں کو جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں بخدا! اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الاّ یہ کہ وہ اس کے معمول میں آجائے پھر دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9467]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الرجل الحارثي
الحكم: صحیح لغیرہ ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الرجل الحارثي