بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 30 از 194
حدیث نمبر: 7699 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللَّقْحَةَ فَلَا يُحَفِّلْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری اونٹنی کو بیچنا چاہے تو اس کے تھن نہ باندھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524.
حدیث نمبر: 7700 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَسْأَلُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے بیع میں دھوکہ نہ دے کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ نہ کرے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413.
حدیث نمبر: 7701 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَسَّعَ عَلَى مَكْرُوبٍ كُرْبَةً فِي الدُّنْيَا، وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ كُرْبَةً فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا، سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْمَرْءِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7701]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2699، وهذا إسناد قد أعل بالانقطاع بين معمر وبين محمد، وكذا بين محمد وبين أبي صالح.
الحكم: حديث صحيح، م: 2699، وهذا إسناد قد أعل بالانقطاع بين معمر وبين محمد، وكذا بين محمد وبين أبي صالح.
حدیث نمبر: 7702 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ" . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَالِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ! وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7702]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2463، م: 1609.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2463، م: 1609.
حدیث نمبر: 7703 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَتْ بَطْنَهَا، فَقَتَلَتْهَا، وَأَلْقَتْ جَنِينًا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهَا عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَفِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ يُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7703]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681.
حدیث نمبر: 7704 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سلمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُها جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" . وَالْجُبَارُ: الْهَدَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7704]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710.
حدیث نمبر: 7705 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! وَاللَّهُ الْمُوعِدُ، إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ لَا يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ؟! وَمَا بَالُ الْأَنْصَارِ لَا يُحَدِّثُونَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ؟! وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ صَفَقَاتُهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ، وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَالْقِيَامُ عَلَيْهَا، وَإِنِّي كُنْتُ امْرءاًَ مُعْتَكِفًا، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مُجَالَسَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْضُرُ إِذَا غَابُوا، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا يَوْمًا فَقَالَ: " مَنْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَدِيثِي، ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي أَبَدًا" ، فَبَسَطْتُ ثَوْبِي، أَوْ قَالَ: نَمِرَتِي، ثُمَّ قَبَضْتُهُ إِلَيَّ، فَوَاللَّهِ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ أَبَدًا، ثُمَّ تَلَا: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159 الْآيَةَ كُلَّهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے اور تم کہتے کہ یہ احادیث مہاجرین صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیوں روایت نہیں کرتے؟ یا انصار ان احادیث کو کیوں بیان نہیں کرتے؟ تو بات یہ ہے کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبر گیری میں مصروف رہتے تھے جبکہ میں اکیلا آدمی تھا اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجالس میں موجود ہوتا تھا جب وہ غائب ہوتے تھے تو میں حاضر ہوتا تھا جب وہ بھول جاتے تو میں یاد رکھتا تھا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادراوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔ اور واللہ اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا پھر انہوں نے ان دو آیتوں کی تلاوت فرمائی جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 118، م: 2492.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 118، م: 2492.
حدیث نمبر: 7706 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّة، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي هَدَانَا اللَّهُ لَهُ، وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، غَدًا لِلْيَهُوَدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7706]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 876، م: 855.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7707 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَالْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7707]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 876، م: 855.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7708 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا الشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا" . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرءَُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم سورة آل عمران آية 36.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7708]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7709 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ، صُلَّحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ لِزَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا قَطُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام نے کبھی اونٹ کی سواری نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527.
حدیث نمبر: 7710 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ يَعْنِي الْأَمْعَاءَ، فِي النَّارِ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں عمرو بن عامرخزاعی کو اپنی آنتیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑنے کا رواج قائم کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7710]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3521، م: 2856، وهذا إسناد منقطع، الزهري لم يسمع من أبي هريرة.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3521، م: 2856، وهذا إسناد منقطع، الزهري لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7711 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَبِي عُرْوَةَ مَعْمَرٍ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ أَبِي عُرْوَةَ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، قُبِلَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157.
حدیث نمبر: 7712 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟!" . ثُمَّ يَقُولُ أَبو هريرة: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ یہ حدیث بیان کر کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو یہ اللہ کی تخلیق ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7713 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، رَجُلٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى عَبْدٍ أَحْيَاهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً، لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إليه لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے کا عذر پورا کردیتے ہیں جسے اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7713]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 6419.
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 6419.
حدیث نمبر: 7714 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَكَعْبٌ، فَجَعَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ كَعْبًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَعْبٌ يُحَدِّثُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الْكُتُبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قاسم بن محمد کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ اکٹھے ہوگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث سناتے اور کعب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سابقہ آسمانی کتابوں کی باتیں سناتے اسی اثناء میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7714]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198.
حدیث نمبر: 7715 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: وَنَسِيَ أَنْ يَقُولَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَأَطَافَ بِهِنَّ، قَالَ: فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ امرأَةٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا آج رات میں سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتا سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7715]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، خ: 5242، م: 1654.
الحكم: رجاله ثقات، خ: 5242، م: 1654.
حدیث نمبر: 7716 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7716]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
حدیث نمبر: 7717 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟، فَقَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: " مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَيَتْبَعُهُ"، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ:" أَنَا رَبُّكُمْ"، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ:" أَنَا رَبُّكُمْ"، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتْبَعُونَهُ، قَالَ: وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ، وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهَا كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْحَمَ، مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنَ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءٍ يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ. وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَقُولَ:" فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟" فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَيَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ:" أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ!" فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، حَتَّى يَقُولَ:" فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذلك أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ"، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي الله مِنْ عُهُودِهِ وَمَوَاثِيقِهِ أَنْ لَا يَسْأَلَ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا دَنَا مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحِبَرَةِ وَالسُّرُورِ، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ:" أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟!، وَقَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟!" فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ، أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا، فَإِذَا دَخِلَ، قِيلَ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا، فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا، فَيَتَمَنَّى، حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" . قَالَ: وَأَبُو سَعِيدٍ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ قَوْلِهِ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ:" هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ:" مِثْلُهُ مَعَهُ" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل نہ ہو دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو کوئی دشواری پیش آتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہنچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بیشک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ ہوگی اور جہنم میں سعدان نامی خاردار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے (چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان پر حرام کردیا ہے کہ وہ انسان کے سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ میں نے تیرا سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے (اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7717]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182.
حدیث نمبر: 7718 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ الْجَنَّةُ: يَا رَبِّ، مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا فُقَرَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ؟ وَقَالَتْ النَّارُ: يا رَبِّ، مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ؟ فَقَالَ لِلنَّارِ: " أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ"، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ:" أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا الْجَنَّةُ، فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا مَا يَشَاءُ، وَأَمَّا النَّارُ، فَيُلْقَوْنَ فِيهَا"، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فِيهَا، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَتَقُولُ: قَطْ، قَطْ، قَطْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7718]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846.