بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 84 از 194
حدیث نمبر: 8780 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا ایک ادنیٰ امتی بھی کسی کو امان دے سکتا ہے (اور پوری امت پر اس کی پابندی ضروری ہوگی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8780]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1508
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1508
حدیث نمبر: 8781 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، ابْنُ بِلَالٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8781]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8782 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِلصَّدِيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صدیق یا دوست کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2597
الحكم: إسناده صحيح، م: 2597
حدیث نمبر: 8783 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجَرَسُ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھنٹی شیطان کا باجا ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2114
الحكم: إسناده صحيح، م: 2114
حدیث نمبر: 8784 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے درمیان صلح نافذ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8784]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8785 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَاعْفُوا اللِّحَى، وَخَالِفُوا الْمَجُوسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو اور مجوسیوں کی مخالفت کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 8592، م: 260
الحكم: إسناده صحيح، خ: 8592، م: 260
حدیث نمبر: 8786 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ، فَلَا إِذْنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب آنکھیں اندر داخل ہوگئیں تو اجازت لینے کی کوئی حیثیت نہ رہی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8786]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8787 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّائِبَةَ وَبَحَرَ الْبَحِيرَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جہنم میں عمرو بن عامر خزاعی کو اپنی آنتیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑنے کا اور بحیرہ بنانے کا رواج قائم کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8787]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3521، م: 2856
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3521، م: 2856
حدیث نمبر: 8788 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8788]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
الحكم: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 8789 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَالْمُجَثَّمَةَ، وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے ٹکٹکی پر باندھ کر نشانہ سیدھا کئے ہوئے جانور اور پالتو گدھوں کو حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8789]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1933
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1933
حدیث نمبر: 8790 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا أَوْ قَالَ: زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ أُرَاهُ قَالَ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ هَلُمَّ إِلَيْهِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا رَجُلٌ لَا تُودَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ إِلَّا مَالُ أَبِي بَكْرٍ"، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ، وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ، وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مال میں سے ایک یا دو جوڑے والی چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغہ بلاتے ہیں کہ اے مسلمان یہ خیر ہے اس کی طرف آگے بڑھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس شخص پر کوئی تباہی نہیں آسکتی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا ہے اتنا کسی کے مال نے نفع نہیں پہنچایا یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے اللہ نے مجھے آپ کے ذریعے فائدہ پہنچایا ہے (تین مرتبہ) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1897، م: 1027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1897، م: 1027
حدیث نمبر: 8791 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، رَبِيعَةَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ، وَأَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ، وَمَا شَاءَ صَنَع، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ، فَإِنَّ اللَّوَّ تُفْتَحُ مِنَ الشَّيْطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نگاہوں میں طاقتور مسلمان کمزور مسلمان کی نسبت زیادہ بہتر افضل اور محبوب ہے اور ہر ایک ہی بھلائی میں ہے ایسی چیزوں کی حرص کرو جن کا تمہیں فائدہ ہو اور تم اس سے عاجز نہ آجاؤ اگر کوئی معاملہ تم پر غالب آنے لگے تو یوں کہہ لو کہ اللہ نے اسی طرح مقدر فرمایا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے اور اگر مگر سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اگر مگر شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8791]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث، م: 2664
الحكم: حديث حسن، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث، م: 2664
حدیث نمبر: 8792 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ لَيَكُونَنَّ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ اپنے آباء و اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ گبریلے سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8792]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8793 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، يَزِيدَ بْنِ مِكْرَزٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِكْرَزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَجْرَ لَهُ"، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ: عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ لَمْ يَفْقَهْ، فَأَعَادَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ:" لَا أَجْرَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کا مقصد دنیاوی ساز و سامان کا حصول ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا لوگوں پر یہ چیز بڑی گراں گذری انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوبارہ مسئلہ پوچھو ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بات اچھی طرح نہ سمجھ سکے ہوں اس نے دوبارہ وہی سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا اس نے سہ بارہ وہی سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8793]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يزيد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يزيد
حدیث نمبر: 8794 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ أَعْجَبَهُ صِحَّتُهُ وَجَلَدُهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَتَى أَحْسَسْتَ أُمَّ مِلْدَم؟" قَالَ: وَأَيُّ شَيْءٍ أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ:" الْحُمَّى"، قَالَ: وَأَيُّ شَيْءٍ الْحُمَّى؟ قَالَ:" سَخَنَةٌ تَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعِظَامِ"، قَال: مَا بِذَلِكَ لِي عَهْدٌ، قَالَ:" فَمَتَى أَحْسَسْتَ بِالصُّدَاعِ؟" قَالَ: وَأَيُّ شَيْءٍ الصُّدَاعُ؟ قَالَ:" ضَرَبَانٌ يَكُونُ فِي الصُّدْغَيْنِ وَالرَّأْسِ"، قَالَ: مَا لِي بِذَلِكَ عَهْدٌ، قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا أَوْ وَلَّى الْأَعْرَابِيُّ , قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صحت مند دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کبھی تمہیں " ام ملدم " نے اپنی گرفت میں لیا ہے؟ اس نے کہا کہ " ام ملدم " کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا بخار اس نے پوچھا بخار کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جسم اور گوشت کے درمیان حرارت کا نام ہے اس نے کہا کہ میں نے تو اپنے جسم میں کبھی یہ چیز محسوس نہیں کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی صداع نے پکڑا ہے؟ اس نے پوچھا کہ صداع سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ رگیں جو انسان کے سر میں چلتی ہیں (اور ان کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے) اس نے کہا کہ میں نے اپنے جسم میں کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں کی جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس شخص کو دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8794]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8795 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مظلوم کی بددعاء ضرور قبول ہوتی ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر ہی ہو کیونکہ اس کے فسق و فجور کا تعلق اسی کی ذات سے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8795]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8796 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ، لَأَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحْرِقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء کھڑی کرنے کا حکم دے کر اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ ان گھروں میں جو کچھ ہے اسے آگ لگا دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2420، م: 651، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر
الحكم: حديث صحيح، خ: 2420، م: 651، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8797 مسند احمد
خَلَفُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ عِنْدِي أُحُدًا ذَهَبًا، وَيَمُرُّ بِي ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلَّا شَيْئًا أَعْدَدْتُهُ لِغَرِيمِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 8798 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 440
الحكم: إسناده صحيح، م: 440
حدیث نمبر: 8799 مسند احمد
خَلَفٌ ، خَالِدٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا: يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، وَأَنْ تُنَاصِحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ بازی نہ کرو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8799]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1715
الحكم: إسناده صحيح، م: 1715