بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 5 از 194
حدیث نمبر: 7199 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي أَنْظُرُ أَوْ إِنِّي لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِي، كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ، وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7199]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423.
حدیث نمبر: 7200 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ، وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا، فَلْيَصُمْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082.
حدیث نمبر: 7201 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ، قَالَ: ذَكَرَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَسِيَهَا مُحَمَّدٌ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَأَتَى خَشَبَةً مَعْرُوضَةً فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: بِيَدِهِ عَلَيْهَا، كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، وَخَرَجَتْ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، قَالُوا: قُصِرَتْ الصَّلَاةُ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُسَمَّى: ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتْ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ:" لَمْ أَنْسَ، وَلَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ"، قَالَ:" كَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قال: فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ". قَالَ: فَكَانَ مُحَمَّدٌ يُسْأَلُ ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کی دو میں سے کوئی ایک نماز (جس کا نام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا راوی محمد بھول گئے۔ غالباً مغرب یا عشاء) پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی انہی لوگوں میں ایک اور آدمی بھی تھا جس کے ہاتھ کچھ زیادہ لمبے تھے اور اسی بناء پر اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے اور جتنی رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی (اور بیٹھ گئے پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا جو پہلے کی طرح یا اس سے کچھ طویل تھا پھر سجدہ سے سر اٹھا کر (تکبیر کہی) محمدنامی راوی سے جب پوچھا جاتا تھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر سلام پھیرا؟ تو وہ کہتے کہ مجھے خبردی گئی ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7202 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7203 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلهُ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ، وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ". مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816.
حدیث نمبر: 7204 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُقْتَصَّ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا". وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ:" يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہو گا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2582.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2582.
حدیث نمبر: 7205 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہو گا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7205]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2587.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2587.
حدیث نمبر: 7206 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا، وَلَا تَوَاضَعَ عبدٌ لله، إلا رفعه الله". وقال ابن جعفر:" رجل أو أحد، إلا رفعه الله".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی کسی ظلم سے درگزر کرلے اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے رفعتیں ہی عطاء کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2588.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2588.
حدیث نمبر: 7207 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ". وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" لِلبَرَكَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7207]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2087، م: 1606.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2087، م: 1606.
حدیث نمبر: 7208 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ"، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا، وَلَكِنَّهُ يَسْتَخْرِجُ مِنَ الْبَخِيلِ". وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی چیز وقت سے پہلے نہیں مل سکتی البتہ منت کے ذریعہ بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
حدیث نمبر: 7209 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ، وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 251.
الحكم: إسناده صحيح، م: 251.
حدیث نمبر: 7210 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن غیرت مند ہوتا ہے مومن غیرت کرتا ہے مومن باغیرت ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761.
حدیث نمبر: 7211 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ؟" فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَانْطَلَقْتُ، فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہو گئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلتارہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پا کر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آ کر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 283، م: 371.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 283، م: 371.
حدیث نمبر: 7212 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَأَلْتُ أَبِي، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، وَسُهيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا ذَكَرَ الْعَلَاءَ إِلَّا بِخَيْرٍ، وَقَدَّمَ أَبَا صَالِحٍ عَلَى الْعَلَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور عمل بہترین ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7212]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان: 2981.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان: 2981.
حدیث نمبر: 7213 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، بَرَكَةَ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ بَرَكَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّ يَدَيْهِ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ". وَقَالَ سُلَيْمَانُ: يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح ہاتھ پھیلائے ہوئے دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی دیکھ رہا تھا راوی کہتے ہیں کہ یہ نماز استسقاء کا موقع تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7213]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7214 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا، فَاخْتَلَفُوا فِيهَا، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ، غَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7214]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856.
حدیث نمبر: 7215 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا، يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7215]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6478.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6478.
حدیث نمبر: 7216 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيد ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيد ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَدْرَكْتَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَصَلِّ عَلَيْهَا أُخْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7216]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 556، م: 608، وهذا إسناد فيه محمد بن أبي عدي وسماعه عن سعيد بعد اختلاطه، لكنه قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 556، م: 608، وهذا إسناد فيه محمد بن أبي عدي وسماعه عن سعيد بعد اختلاطه، لكنه قد توبع.
حدیث نمبر: 7217 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَأَلْقَتْ جَنِينًا،" فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ، أَوْ أَمَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا پیدا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسئلے میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7217]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5759، م: 1681.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5759، م: 1681.
حدیث نمبر: 7218 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں ہر نوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کی درمیانی جگہ حرم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1873، م: 1372.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1873، م: 1372.