ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ؟" فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَانْطَلَقْتُ، فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہو گئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلتارہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پا کر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آ کر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 283، م: 371.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 283، م: 371.